تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 164 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 164

۱۴۴ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم پروگرام رات سوا نو بجے تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا۔مکرم حافظ برہان محمد خان صاحب نے تلاوت کی اور ترجمہ پیش کیا۔پھر مکرم رفیق اللہ خان صاحب نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام پیش کیا۔جس کے بعد میزبان مشاعرہ ضیا اللہ صاحب مبشر نے خلافت کے متعلق الوصیت“ سے ایک اقتباس اور اپنا کلام پیش کیا۔پھر علی الترتیب مندرجہ ذیل شعراء نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ا۔مکرم خلیق بن فائق صاحب ۲۔مکرم ڈاکٹر محمد عامر خان صاحب ۳۔مکرم عطاء الرحمن صاحب محمود ۴۔مکرم محمد اعظم نوید صاحب ۵- مکرم فرید احمد ناصر صاحب ۶- مکرم عبدالسلام صاحب ظافرے۔مکرم محمود صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مبارکہ بیگم صاحبہ کے چند اشعار پر تضمین کردہ اپنا کلام پیش کیا۔محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ نے منتظمین کی درخواست پر اپنا کلام بھجوایا جو مکرم عبد السلام صاحب ظافر نے پڑھ کر سنایا۔9۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب۔۱۰۔محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس صاحبہ کا نہایت خوبصورت دعائیہ کلام مکرم غلام سرور صاحب نے خوش الحانی سے پڑھ کر سنایا۔۱۱۔مکرم پروفیسر مبارک احمد صاحب عابد اس مبارک نشست کے آخر میں صدر محفل مشاعرہ مکرم چوہدری محمد علی صاحب نے سامعین کو اپنے کلام سے نوازا اور خوب داد وصول کی۔بلاک وائز تقریری مقابلہ جات ربوہ مورخہ ۱۲۳۱۶ اور ۳۰ / جون ۲۰۰۲ء کو شعبہ تعلیم مجلس انصار اللہ مقامی کے زیر اہتمام بالترتیب صدر بلاک ب، صدر بلاک الف ، طاہر بلاک ، رحمت بلاک الف ، رحمت بلاک ب ، یمن بلاک اور علوم بلاک الف ، علوم بلاک ب اور نصر بلاک کے تقریری مقابلے کرائے گئے۔تقاریر کے عناوین مندرجہ ذیل تھے۔ا۔سیرت النبی اللہ ۲۔مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود کی اہمیت۔۳۔نماز با جماعت کی اہمیت تربیتی کلاس نو مبائعین ربوه مورخه ۲۸ جون ۲۰۰۲ء کو نو مبائعین کی کلاس دفتر مقامی میں ہوئی جس میں اٹھائیس نو مبائعین شامل ہوئے۔تلاوت قرآن کریم اور نظم خوانی ہر دو نو مبائع دوستوں نے ہی کی۔کلاس کے اختتام پر مہمانوں نے دار الضیافت میں کھانا کھایا اور نماز جمعہ بیت اقصیٰ ربوہ میں ادا کی۔