تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 160
۱۴۰ تاریخ انصار اللہ جلد چہارم نصائح کیں۔صداقت حضرت مسیح موعود کے موضوع پر احمد رند صاحب نے تقریر کی۔مکرم سکندر صاحب اور عبد الغنی صاحب مری بلوچ نے اپنے قبولِ احمدیت کی روداد سنائی جو بڑی ایمان افروز تھی۔دوسرے اجلاس میں مکرم احمد رند صاحب نے مٹھی میں تعلیمی کلاس کی روئیداد پر اپنے خیالات کا بڑے مؤثر رنگ میں اظہار کیا۔مکرم محمد آصف طاہر صاحب نے ” صداقت حضرت مسیح موعود از روئے ہندو لٹریچر بیان کی۔مکرم رانا منیر احمد صاحب نے نظام جماعت کا تعارف کروایا۔ایک مجلس سوال و جواب کا انعقاد کیا گیا۔سوالات کے جوابات مکرم عبدالخالق صاحب سولنگی نے سندھی زبان میں اور مکرم محمد آصف طاہر صاحب نے اردو زبان میں دیئے۔دوسرے اجلاس کے صدر مکرم احسان اللہ چیمہ صاحب تھے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی کہ ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی آج کس شان سے اس جلسہ میں بھی پوری ہو رہی ہے۔مختلف جگہوں سے مختلف قومیتیں رکھنے والے افراد اس جلسہ میں شریک ہو رہے ہیں۔انہوں نے دعوت الی اللہ کی طرف دوستوں کو توجہ دلائی اور کہا کہ خدا کے فضلوں کو دعوت الی اللہ کے ذریعہ اپنے لئے بھی حاصل کریں۔آخر میں قائد صاحب تربیت نو مبائکعین نے اپنی تقریر میں بتایا کہ نو مبائعین کو بیعت کی توفیق ملنا دراصل خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔انہوں نے تحدیث نعمت کے طور پر بیان کیا کہ انہیں نجیم میں خدمت کی توفیق ملی ہے۔چند سالوں میں خدا کے فضل سے وہاں چالیس مختلف قوموں کے احباب احمدیت میں داخل ہوئے۔اب ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔آپ نے نو مبائعین کو باجماعت نماز جمعہ کی ادائیگی پر خاص طور پر توجہ دلائی۔آخر میں دعا کے ساتھ یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اس پروگرام میں ایک سو تیرہ نومبائعین ،سات غیر از جماعت احباب اور دو سو تینتالیس انصار، خدام اور اطفال شامل ہوئے۔اس طرح کل احباب تین سو تریسٹھ تھے۔۱۵ ریفریشر کورس مجلس انصار اللہ ضلع لاہور مورخه ۱۵ مئی ۲۰۰۲ ء دارالذکر لاہور میں عہدیداران ضلع لاہور کے لئے ایک ریفریشر کورس کا اہتمام کیا گیا۔ایک سوا کیس عہدیداران نے شمولیت کی۔دیہاتی مجالس کے زعماء بھی شریک ہوئے۔تلاوت قرآن کریم، عہد اور دعا کے بعد مکرم طاہر احمد ملک صاحب ناظم ضلع لاہور نے مرکزی