تاریخ انصاراللہ (جلد 4)

by Other Authors

Page 87 of 360

تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 87

تاریخ انصار اللہ جلد چہارم وفات حضرت صاحبزادی امتہ الحکیم صاحبہ حضرت سیّدہ امتہ الحکیم بیگم صاحبہ جو حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی صاحبزادی تھیں، ۱۸ جولائی ۲۰۰۱ء کو انتقال فرما گئیں۔مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے مندرجہ ذیل قرارداد تعزیت منظور کی گئی۔اس قرار داد کو محبوب امام حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے علاوہ مرحومہ کے پسماندگان اور ادارہ جات کو بھی بھجوایا گیا۔قرارداد تعزیت مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان محترمہ صاحبزادی امتہ احکیم بیگم صاحبہ ( بنت سیدنا حضرت خلیفة أصبح الثاني الصلح الموعود) اہلیہ مکرم محرم سید داؤد مظفر شاہ صاحب کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔حضرت مصلح موعود کی صاحبزادی محترمہ امت احکیم بیگم صاحبہ حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کے بطن سے تھیں اور ہمارے محبوب امام سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہمشیرہ تھیں۔٢۶ / مارچ ۱۹۲۶ء کو قادیان میں پیدا ہوئیں اور ۱۸؍ جولائی ۲۰۰۱ء کو بعمر ۷۵ سال رحلت فرما گئیں۔انا لله و انا اليه راجعون۔آپ کی شادی محترم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب ابن حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے ساتھ ۱۹۴۶ء میں ہوئی۔محترم سید داؤد مظفر شاہ صاحب جب سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کی اراضیات سندھ کے نگران مقرر ہوئے تو آپ نے بھی ان کے ساتھ عرصہ دس سال سندھ میں گزارا۔جہاں پر لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کو فعال بنانے میں خدمات سرانجام دیں۔محترمہ صاحبزادی صاحبہ موصوفہ کے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔آپ کے حسن تربیت کا نتیجہ ہے کہ وہ کبھی خدمت دین میں مصروف ہیں۔آپ انتہائی عبادت گزار، غریبوں کی ہمدرد، مستجاب الدعوات اور صاحب رؤیا و کشوف بزرگ خاتون تھیں۔بنی نوع انسان کے لئے آپ کے دل میں بڑی ہمدردی پائی جاتی تھی اور بسا اوقات دوسروں کا دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتیں ، دعا کی درخواست پر مسلسل دعا کرتی رہتیں اور ایک لمبے عرصہ تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔آپ غریبوں اور مسکینوں کی سر پرستی کرتیں