تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 904 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 904

۹۰۴ کے موضوع پر دیا اور قرآنی آیات سے اس مضمون کو کھول کر بیان کیا۔درس الحدیث میں ” تلاوت قرآن کریم کی اہمیت کے موضوع پر مکرم مرزا محمد دین صاحب ناز استاذ الجامعہ نے اور درس ملفوظات باہمی اخوت و محبت“ کے موضوع پر مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب نے دیا۔اس اجلاس کے آخر میں صدرا جلاس نے دعا کروائی۔وقفہ کے دوران والی بال ، سائیکل ریس آہستہ (Slow) اور سو میٹر دوڑ کے مقابلے اور اسی دوران بیت الذکر میں تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔دوسرا اجلاس مکرم زعیم صاحب اعلیٰ ربوہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔تلاوت مکرم میاں عبدالمجید صاحب نے کی اور نظم مکرم مقبول امینی صاحب نے پڑھی۔اس اجلاس کی پہلی تقر یب یمکرم حافظ مظفر احمد صاحب ایڈیشنل ناظر دعوت الی اللہ نے احمدیت کا شاندار مستقبل کے موضوع پر کی۔آپ نے حضرت مسیح موعود کے الہامات اور تحریرات کی روشنی میں بڑی وضاحت سے بیان کیا۔اس کے بعد مکرم ملک منور احمد صاحب صاحب جاوید قائد تربیت نے ” قبولیت دعا“ کے موضوع پر تقریر کی اور ایمان افروز واقعات بیان کئے۔آخر میں مکرم مغفور احمد صاحب منیب سابق مربی سلسلہ جاپان نے ” جاپان میں شدید زلزلہ اور جماعت احمدیہ کی خدمات“ کے موضوع پر خطاب کیا۔اختتامی اجلاس مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب قائمقام صدر مجلس کے زیر صدارت منعقد ہوا۔تلاوت مکرم قاری محمد عاشق صاحب نے کی اور مکرم محمد رفیق صاحب اکبر اور مکرم مقبول امینی صاحب نے حضرت مسیح موعود کا شیریں کلام سنایا۔اس کے بعد صدرا جلاس نے علمی اور ورزشی مقابلوں کے انعامات تقسیم کئے اور اپنے صدارتی خطاب میں قیمتی نصائح فرمائیں۔آپ نے نماز با جماعت کی پابندی، صفائی، بیوت الذکر میں بچوں کو ساتھ لے کر آنے اور انہیں آداب بیت الذ کر سکھانے اور ایم ٹی اے پر خطبہ جمعہ با قاعدہ سننے کی ہدایت فرمائی۔آخر میں زعیم اعلیٰ صاحب نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور صدر مجلس نے عہد دہر وایا اور دعا کروائی۔نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد ایک ہزار سے زائد حاضرین کو دو پہر کا کھانا پیش کیا گیا۔یہ پروگرام بخیر و خوبی اڑھائی بجے اختتام پذیر ہوا۔(۳۱) مجلس ۹۶ گ ب ضلع فیصل آباد کا مثالی وقار عمل مورخہ ۱۲۰ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو گاؤں سے بس سٹاپ پل ۹۳ گ ب کی طرف جانے والے راستے پر ایک وقار عمل کیا گیا۔چار سوستر فٹ لمبے تنگ راستہ سے سرکنڈوں اور جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ کر سڑک پر مٹی ڈال کر ہموار کیا گیا۔اس طرح دو فٹ تنگ اور خراب راستہ کو دس فٹ چوڑی سڑک میں تبدیل کیا گیا۔اس راستہ سے روزانہ تقریباً پانچ سو افراد پیدل یا سائیکلوں پر گزرتے تھے۔وقار عمل پر چار گھنٹے وقت صرف ہوا اور پچپن احباب نے شرکت کی۔۳۲﴾