تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 822
۸۲۲ طاہر، مکرم مولا نا نظام الدین مہمان صاحب، مکرم مولانا رشید احمد صاحب مربیان سلسلہ اور مکرم مولا نا سید احمد علی شاہ صاحب نے دیئے۔تربیتی دوره ضلع گجرات مورخه ۲۰ فروری ۱۹۸۶ء کو مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب، مکرم ملک غلام نبی صاحب اور مکرم مظفر احمد سدھن صاحب آف ماریشس پر مشتمل وفد ۵ بجے شام گجرات پہنچا۔اسی اثناء میں بارش شروع ہوگئی۔لہذا وفد مربی ہاؤس پہنچا۔وہاں نمازیں جمع کر کے پڑھی گئیں۔اس کے بعد یوم مصلح موعود کا جلسہ ہوا۔جس میں تینوں مرکزی نمائندگان نے تقاریر کیں۔حاضری پینتیس کے قریب تھی۔ساڑھے آٹھ بجے کے قریب فارغ ہو کر وفد شیخ پور کے لئے روانہ ہوا۔نماز فجر کے بعد جلسہ یوم مصلح موعود ہوا۔مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب نے مصلح موعود کے موضوع پر تقریر کی۔مجلس کا جائزہ لیا گیا۔بوجہ بارش حاضری اکیس کے قریب تھی۔پونے بارہ بجے کھاریاں پہنچے۔مشن ہاؤس میں آمدہ مجالس کا جائزہ لیا۔خطبہ جمعہ تربیتی موضوع پر مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب نے دیا جس کے بعد تربیتی اجلاس ہوا جس میں تینوں احباب نے تقاریر کیں۔حاضری تین سو پچاس تھی۔وفد نما ز عصر کے بعد چک سکندر کے لئے روانہ ہوا۔نمازوں کے بعد مجلس کا جائزہ لیا گیا۔مرکزی وفد نے تربیتی تقاریر کیں۔حاضری نوے تھی۔دوسرے روز صبح کی نماز کے بعد درس قرآن کریم مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب نے دیا پھر وفد پونے دس بجے رسول کا لج پہنچا۔احمدی اساتذہ سے ملاقات ہوئی۔انہیں مونگ میں جلسہ میں شامل ہونے کی تاکید کی گئی۔ایک بجے کے قریب وفد مونگ پہنچا۔پہلے مجالس کا جائزہ لیا گیا پھر نماز ظہر ادا کی گئی۔امیر صاحب ضلع کی صدارت میں تربیتی اجلاس ہوا۔ارکان وفد نے تربیتی تقاریر کیں۔رسول کالج سے دونوں پر و فیسر صاحبان معہ چھ طلباء بھی اس اجلاس میں پہنچ گئے تھے۔اس طرح اس اجلاس کی حاضری ساٹھ رہی۔تربیتی اجلاس حلقہ دہلی دروازہ لاہور مورخه ۲۴ فروری ۱۹۸۶ ء بعد نماز عشاء بیت الحمد سلطان پورہ لاہور میں ایک اجلاس عام ہوا جس میں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس اور مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب نے شرکت کی۔تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد صدر محترم نے ایک گھنٹہ سے زائد وقت خطاب کیا اور شروع میں اس بنیادی اہمیت کے حامل امر کی طرف توجہ دلائی کہ خلافت احمد یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اقتباسات سے خلافت کی اہمیت اور اس کے متعلق آنے والے حالات اور خوشخبریوں سے سامعین کو آگاہ کیا۔نیز یہ بھی واضح کیا کہ خلفاء کے تمام قول وفعل بڑی ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ان کو معمولی نہ سمجھیں۔بعد ازاں صدر محترم نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی بیرون ملک روانگی کو الہی سلسلہ کے قیام کی غرض و غایت