تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 741 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 741

۷۴۱ زعماء انصار اللہ کو تاکید کی جاتی رہی کہ وہ مقابلہ دینی معلومات کے لئے اطفال کو تیاری کروائیں۔پہلے مقامی اور پھر ضلعی سطح پر مقابلے منعقد کرائیں۔ہر ضلع سے اول اور دوم آنے والے اطفال کو مرکزی مقابلہ میں حصہ لینے کے لئے بھجوایا جائے۔۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۲ء تک اول آنے والے طفل کو ایک سو بیس روپے اور دوم کو ساٹھ روپے بطور انعام دیئے جاتے رہے۔۱۹۸۳ء میں یہ انعام بڑھا دیا گیا یعنی اول آنے والے طفل کو دوسو چالیس روپے اور دوم کو ایک سو بیس روپے۔۱۹۸۶ء میں اول انعام تین سو ساٹھ روپے اور دوم انعام دو سو چالیس روپے مقرر کیا گیا ، ۱۹۹۵ء میں پہلا انعام بارہ سوروپے اور دوسرا انعام چھ سو ساٹھ روپے کا اعلان کیا گیا۔ان انعامات کے ساتھ اطفال کو سندات خوشنودی بھی دی جاتی رہیں۔حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملنے کے باعث چونکہ ۱۹۸۴ء تا ۱۹۹۹ ء سالانہ اجتماعات منعقد نہیں کئے جا سکے لہذا اس عرصہ میں یہ مقابلے مرکزی طور پر منعقد نہ ہو سکے۔۱۹۸۲ء اور ۱۹۸۳ء کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں : ۱۹۸۲ء: اوّل مکرم اظہر محمود ناصر صاحب دوم مکرم محموداحمد شاہد صاحب ۱۹۸۳ء : اوّل مکرم اظہر محمود ناصر صاحب دوم اوکاڑہ کراچی اوکاڑہ مکرم مرزا تقی الدین احمد صاحب ربوہ مکرم فضل کریم صاحب کر تو ضلع شیخو پوره