تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 691
۶۹۱ -۴ دو ممبر ایسے علاقہ جات سے لیے جائیں جہاں ناخواندہ انصار کی تعداد زیادہ ہے۔۵- دومبر ایسے علاقوں سے لیے جائیں جہاں خواندہ انصار کی تعدا دزیادہ ہو۔سب کمیٹی اپنی رپورٹ تین ماہ میں پیش کرے۔سفارش صدر مجلس : کثرت رائے سے اتفاق ہے۔تعمیل فیصلہ شوری : اس سفارش پر ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی جو مندرجہ ذیل ممبران پر مشتمل تھی : مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب قائد اشاعت و صدر کمیٹی ، مکرم منور شمیم خالد صاحب قائد تعلیم سیکرٹری ، مکرم ملک فضل داد صاحب ناظم ضلع جہلم ممبر، کرنل دلدار احمد صاحب ناظم ضلع لا ہور ، مکرم بر یگیڈ ئیر ضیاء الحسن صاحب ناظم ضلع راولپنڈی ، مکرم چوہدری محمد اقبال صاحب کا ہلوں ناظم ضلع ٹو بہ ٹیک سنگھ ، مکرم چوہدری عبدالغفور صاحب ناظم ضلع جھنگ۔سب کمیٹی نے رپورٹ دی کہ (1) دو علیحدہ علیحدہ معیار اور علیحدہ علیحدہ تعلیمی نصاب خواندہ اور نا خواندہ انصار کے لئے ہوں۔(۲) ناخواندہ انصار کے لئے بنیادی نصاب کے علاوہ قرآن کریم کی ایسی آیات پر مشتمل ہو جو عموماً پڑھنے اور سننے میں آتی ہیں مثلا سترہ آیات ، آیت الکرسی ، سورۃ البقرہ کی آخری دعائیہ آیات ، تینوں قل۔(۳) حضرت مسیح موعود کی جو کتب خواندہ انصار کے لئے مقرر کی جائیں وہی کتب نا خواندہ انصار کے لئے مقرر ہوں۔اس کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ مقررہ کتاب کی تلخیص حضور کے اپنے الفاظ میں تیار کر کے مرکز کی طرف سے بھجوائی جایا کرے اور ناخواندہ انصار کو اس تلخیص میں سے امتحان کی تیاری کروائی جائے۔اس سب کمیٹی کی رپورٹ پر مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حضور انور کی خدمت میں سفارش کی کہ خواندہ اور ناخواندہ انصار کے لئے دو الگ الگ معیار مقرر کرنے کی بجائے موجودہ طریق کے مطابق ایک ہی نصاب ہو اور ناخواندہ انصار کا امتحان زبانی ہو۔“ فیصلہ حضرت خلیفۃ اسیح " : حضور انور نے مجلس عاملہ کی سفارش کو منظور فرمالیا۔اس فیصلہ سے مکرم قائد صاحب عمومی نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو مجالس کو مطلع کیا۔تجویز نمبر ۵ ( قیادت تربیت): حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ فرموده ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء میں ذیلی تنظیموں کود و ابتدائی تربیتی پروگرام دیئے ہیں جو پانچ بنیادی اخلاق اور عبادات سے متعلق ہیں۔قیادت تربیت مجلس شوری کی خدمت میں درخواست کرتی ہے کہ حضور کے خطبہ کی تعمیل میں لائحہ عمل تجویز کرے۔