تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 44
۴۴ اور کہو کہ اکیلے جاؤ اور فتح کر لو۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ سارے احمدیوں کو اپنی ساری طاقتیں استعمال کرنی پڑیں گی۔اور صرف سپین میں نہیں بلکہ ہر ملک میں وسیع پیمانے پر آپ کو اپنی ساری طاقتوں کو اسلام کے لئے جھونکنا پڑے گا۔۔۔۔پس ہم سو سالہ جشن کس طرح منائیں اور اپنے رب کے حضور کیا پیش کریں۔بہت سی باتوں میں سے ایک یہ بات میرے پیش نظر ہے کہ ہم یہ عہد کریں کہ کم از کم سوممالک میں تبلیغ کے ذریعے اسلام کا جھنڈا گاڑ دیں گے یعنی احمدیت کے ہر سال کے لئے ہم نیا ملک فتح کر لیں گے۔اس کے لئے بھی بہت بڑے منصوبے کی ضرورت ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پڑے گی۔اس سکیم میں پاکستان کا ایک حصہ دعا کا ہے۔بڑی کثرت کے ساتھ دعائیں کریں اور بڑی باقاعدگی کے ساتھ دعائیں کریں۔اتنا گہرا اثر ہوتا ہے دعا کا۔اور اتنا حیرت انگیز اور معجزانہ اثر ہوتا ہے کہ انسان تصور میں بھی نہیں لا سکتا۔۔۔جہاں تک پاکستان کی جماعت کا تعلق ہے۔میں مجلس انصار اللہ کے سامنے خصوصیت کے ساتھ یہ پروگرام رکھتا ہوں ( پہلے بحیثیت صدر مجلس انصار اللہ بھی یہ پروگرام آپ کے سامنے رکھا تھا ) کہ ایک ایسے گاؤں میں احمدیت کو قائم کرنے کی کوشش کریں جہاں پہلے احمدیت قائم نہیں ہے۔اگر ہر مجلس ہر سال ایک نئے گاؤں میں احمدیت نافذ کر دے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند سالوں کے اندر اندر اس ملک کی فضا تبدیل ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دشمن بھی منصوبے بناتا ہے اور مکر کرتا ہے اور اللہ بھی منصوبے بناتا ہے اور ایک مکر کرتا ہے۔وَالله خَيْرُ الْمُكِرِينَ (ال عمران : ۵۵) اور اللہ کا مکر بہتر ہوتا ہے۔اپنی خوبیوں کے لحاظ سے بھی۔اور انجام کا ر بھی وہی غالب آیا کرتا ہے۔پس جتنا وہ مکر کر رہے ہیں آپ کو ذلیل اور رُسوا کرنے کے لئے اور مٹانے کے لئے اور آپ کی جڑیں اُکھاڑنے کے لئے ، آپ بھی مقابل پر مکر کریں اور وہ مکر کریں جو اللہ کا مکر ہوتا ہے۔جو خیر الماکرین کا مکر ہوتا ہے۔دیکھتے دیکھتے اللہ کی تائید کے ساتھ یہ ساری بستیاں انشاء اللہ احمدی ہو جائیں گی۔یہاں احمدیت کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔پس وہ جو ہمیں مٹانے کے خواہاں ہیں۔یہ ان لوگوں کی خوا میں ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوں گی۔وہی خواب پوری ہوگی جو میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خواب تھی۔جو آپ کے عاشق کامل حضرت مسیح موعود کی خواب تھی۔ساری دنیا میں آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا جھنڈا گاڑا جائے گا۔اور دشمن اسلام کی ساری خوا ہیں نا کام جائیں گی۔پوری نہیں ہوں گی اور نا مراد نکلیں گی اور ہر جگہ، ہر بستی ، ہر قریہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا جھنڈا گاڑا جائے گا یعنی وہی جھنڈا جو درحقیقت