تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 600 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 600

۶۰۰ نیز سومنگ پول کے پاس ایک گروپ فوٹو لیا گیا۔مہمان خصوصی کی آمد پر جملہ اراکین نے نماز مغرب ادا کی۔اس کے بعد احباب ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگرام سے لطف اندوز ہوتے رہے۔یہ پروگرام کھیلوں کے علاوہ جنگلی حیات سے متعلق تھے۔اس کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو اور مزاح کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔اس دوران آندھی اور بادل کے ساتھ ساتھ بوندا باندی کا سلسلہ بھی جاری ہو گیا۔احباب کی تواضع ماکولات ومشروبات سے کی گئی۔موسم کے خوشگوار ہو جانے کی وجہ سے پکنک بہت پر لطف ہو گئی۔نو بجے نماز عشاء ادا کی گئی۔اس خوشگوار ماحول میں مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب قائد اشاعت نے خوش الحانی سے جماعت کے بزرگان کی دو نظمیں پیش کیں جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔تقریباً ساڑھے نو بجے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی دعا پر یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔اس پکنک کو کا میاب بنانے کے لئے پانچ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔(۲۹) محدود شوری ۱۹۹۸ء مجلس انصار اللہ پاکستان کی محدود شوری مورخه ۱۵ نومبر ۱۹۹۸ء بروز اتوار صبح نو بجے ہال مجلس انصاراللہ پاکستان میں منعقد ہوئی۔جس میں ناظمین اضلاع اور زعماء اعلیٰ کے علاوہ بیس سے زائد انصار والی مجالس کے زعماء کو مدعو کیا گیا تھا۔مرکزی نمائندگان سمیت دو سو چھیاسٹھ نمائندگان شوری شریک ہوئے۔شوریٰ کے اجلاس کے بعد قائدین کرام نے اپنے شعبہ جات کے بارے میں ہدایات دیں۔یہ اجلاس قریباً دو بجے اختتام پذیر ہوا۔تعمیر یکصد بیوت جرمنی جرمنی میں یکصد بیوت کی تعمیر کے لئے مجلس انصار اللہ پاکستان نے یکم دسمبر ۱۹۹۷ء کو پانچ لاکھ روپے اور ۱۵ دسمبر ۱۹۹۸ ء کو دس لاکھ روپے وکیل المال صاحب ثانی کے ذریعہ یکصد بیوت جرمنی کی تعمیر کے لئے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کا اظہار خوشنودی اس سال بھی مجلس کے زیر اہتمام تربیتی دورہ جات کا مربوط انتظام کیا جاتا رہا اس مقصد کے لئے مرکز میں دورہ کمیٹی قائم تھی جو ضروریات کے مطابق مجالس کے دورہ جات کی منصوبہ بندی کرتی اور اس پر عمل درآمد کرواتی۔ماہانہ رپورٹ ہائے کارگزاری کے ساتھ ساتھ ان دورہ جات کی تفصیلی رپورٹیں بھی ہر ماہ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ کے لئے بھجوائی جاتی رہیں۔مکرم صدر صاحب مجلس کی طرف سے ارسال کردہ رپورٹ بابت تربیتی دورہ جات موصول ہونے پر حضورا نور نے فرمایا: ”آپ کی طرف سے ارسال کردہ رپورٹ زیر نمبر ۶ ۴۰ مورخہ ۱۷فروری ۱۹۹۸ء