تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 573
۵۷۳ -7 سے تمام معاونین کو محبت بھرا سلام اور دعا۔“ - لندن سے ۱۲ اپریل ۱۹۹۸ء کو حضور انور نے صدر محترم کو مندرجہ ذیل خط لکھا: آپ کی طرف سے رپورٹ زیر حوالہ نمبر ۵۸۲ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۹۸ ء ماه دسمبر موصول ہوئی۔الحمد للہ کہ رپورٹ میں ۵۶۸۸ نو مبائعین سے رابطہ ہوا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جماعت کا فعال حصہ بنائے۔ان کے ایمانوں میں برکت ڈالے اور مزید پھل حاصل ہوں۔میری طرف سے جملہ شعبہ جات کے کارکنان کو محبت بھر اسلام اور دُعا۔“ مکرم صدر صاحب کی رپورٹ بابت رابطہ نو مبائعین موصول ہونے پر حضور انور نے فرمایا : آپ کی رپورٹ زیر نمبر ۱۷۹۵ مورخہ ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء بابت ۲۰۶۱ نومبائعین سے رابطہ موصول ہوئی۔الحمد لله ـ ثم الحمد للہ۔ماشاء اللہ بہت عمدہ کوشش ہے۔اس رابطہ کو آگے بڑھا ئیں۔اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے معاونین کی مساعی میں غیر معمولی برکت عطا فرمائے۔میری طرف سے تمام کارکنان کو بہت بہت محبت بھرا سلام اور دُعا کا پیغام پہنچا ئیں۔“ ( لندن۔یکم نومبر ۱۹۹۸ء) - مجلس انصار اللہ پاکستان کی رپورٹ کارگزاری بابت ستمبر ۱۹۹۸ء پیش ہونے پر حضور انور نے فرمایا: اگر یہ رپورٹیں درست ہیں کہ آپ کا ۲۲۳۲ نو مبائعین سے رابطہ ہوا ہے تو یہ بڑی خوشکن بات ہے۔ماشاء اللہ بڑی ٹھوس کا رروائی کی ہے۔خدا کرے کہ باقی بھی اسی طرح کام کر رہے ہوں۔“ ( لندن۔۲۶ دسمبر ۱۹۹۸ء) ایم ٹی اے کی چوبیس گھنٹے نشریات شروع ہونے پر پیغام مبارکباد ایم ٹی اے انٹرنیشنل نے یکم اپریل ۱۹۹۶ ء کو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک انقلابی دور میں قدم رکھا یہ روز اس لئے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ اس دن سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی دُوراندیش اور ولولہ انگیز قیادت میں ایم ٹی اے کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کا آغاز ہوا۔اس نہایت مبارک تاریخی موقع پر مجلس انصاراللہ پاکستان نے حضورانور کی خدمت میں اپنی دلی مبارکباد کا مسرت انگیز پیغام ارسال کیا۔اس خط کے جواب میں حضور نے رقم فرمایا : و مسلم ٹیلی ویژن احمد یہ انٹرنیشنل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات شروع ہونے پر آپ کی طرف سے مبارکباد کا پیغام ملا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔دُعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو روحانی، اخلاقی اور علمی میدانوں میں دنیا کی بہترین خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور سعید روحیں بکثرت اس سے فیض پائیں۔اللہ کرے کہ ٹیلی ویژن کی دنیا میں ہمارا یہ نظام ہر پہلو سے انسانیت کے لئے بابرکت ہو۔“ ( رقم فرمودہ محررہ ۲ اپریل ۱۹۹۶ء)