تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 568 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 568

۵۶۸ آپ قیام پاکستان سے تا دم آخر امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع شیخو پورہ کے طور پر خدمات سلسلہ بجالا رہے تھے۔آپ نے نگران بورڈ کے ممبر، مجلس تحریک جدید اور مجلس عاملہ انصار اللہ کے رکن خصوصی کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے۔آپ ایک باغ و بہار شخصیت رکھنے والے، ایک شفیق وجود ، در دمند ، غریب پرور ، ہر ایک سے مخلص ، ظاہری اور باطنی حسن کے مالک اور اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔آپ کی وفات پر حضرت خلیفہ امسیح الرابع اپنے خطبہ جمعہ ۲۹ دسمبر ۱۹۹۵ء میں فرمایا: وو سب سے پہلے تو مکرم محترم چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت شیخو پورہ کا مختصر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔بہت ہی مخلص اور فدائی انسان تھے۔اور خدا تعالیٰ نے ان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ایسی ہر دلعزیز شخصیت تھی کہ اپنے کیا اور غیر کیا جو بھی ان کے قریب آتا تھا ، اس کا دل موہ لیتے تھے۔اور کسی جگہ میں نے کسی امیر ضلع کو اتنا ہر دلعزیز نہیں دیکھا جتنا چوہدری انور حسین صاحب کو ، شیخو پورہ میں ہی نہیں بلکہ اس کے گرد و پیش میں بھی دیکھا ہے۔جب وہاں کبھی میں جاتا تھا تو دعوت دیا کرتے تھے وہاں کے دانشوروں کو۔حکومت کے افسر، غیر افسر، وکیل ، زمیندار سب کشاں کشاں چلے آتے تھے۔کبھی کسی نے اس بارہ میں خوف محسوس نہیں کیا کہ احمدی۔۔۔ہوں گے۔ہم کیوں شامل ہوں۔سارے آیا کرتے تھے اور بے حد عزت تھی چوہدری صاحب کی ان کے دلوں میں۔اپنی ساری برادری پر بہت بڑا اثر رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا بڑی تبلیغ کی توفیق ملی اپنے خاندان میں غیروں میں۔ہر جگہ احمدیت کے لئے ایک غیرت مند نگی تلوار اور تبلیغ کے لحاظ سے ایسا میٹھا رس تھے کہ دلوں کی گہرائی تک اترتا تھا۔۷۴ء جو جماعت کے خلاف شور اٹھا ہے اس کے پس منظر میں وہ کامیاب تبلیغ تھی جماعت کی ، جس کے نتیجے میں مولویوں کے کیمپوں میں تہلکہ مچ گیا تھا۔حکومت بھی بے قرار ہو گئی تھی کہ اس طرح احمدیت تیزی سے پھیلنا شروع ہوئی تو کیا بنے گا۔۔اس میں چوہدری صاحب کا ضلع سب سے آگے تھا۔ضلع شیخوپورہ کے سب سے بڑے وفد آیا کرتے تھے ہر ہفتے۔اور اللہ کے فضل سے رونقیں لگ جاتی تھیں ربوہ میں ہر طرف۔مولوی ہی مولوی پھر رہا ہوتا تھا مگر آنے والا مولوی اور ہوتا تھا ، جانے والا اور ہوتا تھا۔شکلیں ہی بدل جاتی تھیں۔تو چوہدری صاحب نے اس مہم میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا تھا۔انہی کی وجہ سے پھر دوسرے ضلعوں میں یہ شوق پیدا ہوتا تھا۔اور بڑا ہی فدائی انسان تھا۔احمدیت کے عاشق مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق ،خلافت کے عاشق اور ایسی طبیعت مزے کی ، کہ باتیں کرتے تو پھول جھڑتے تھے۔لطائف کا بہت پیارا ذوق تھا اور حاضر جوابی تو درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔کئی لوگ چوہدری صاحب کی حاضر جوابی کی وجہ سے سوچ سوچ