تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 297 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 297

۲۹۷ مکرم چوہدری مقصود احمد صاحب ناظم ضلع فیصل آباد مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز عشاء اجلاس شروع ہوا۔مکرم خواجہ صاحب نے خدمت دین اور وقت کی قربانی کی طرف توجہ دلائی۔تحریک جدید کے نئے سال کے وعدہ جات بھجوانے کی تحریک کی گئی۔مکرم صابر صاحب نے نماز با جماعت ، مباہلہ اور مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی۔حاضری تریسٹھ تھی۔اجلاس مجلس عاملہ : عاملہ کے لئے انصار کو تیار کیا گیا۔تمام شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔آئندہ سال کے لئے نئی عاملہ تجویز کرنے کی تاکید کی گئی۔حاضری پندر تھی۔١٩٨٩ء دعوت الی اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ مکرم قائد صاحب اصلاح و ارشاد نے مارچ ۱۹۸۹ ء میں ایک مختصر مضمون ”دعوت الی اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ“ کے نام سے خوشخط تحریر کروا کے ناظمین کی خدمت میں بھجوایا۔اس مضمون میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق تبلیغ پر روشنی ڈالی گئی نیز اس ضمن میں حضرت امام مہدی علیہ السلام، حضرت مصلح موعود اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے فرمودات بھی شامل کئے گئے تھے۔احمدیہ صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع کا رُوح پرور پیغام "بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر ملک ہند میں مشرقی پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبہ میں آج سے ایک سوسال پہلے ایک عجیب ماجرا گزرا، جسے آئندہ بنی نوع انسان کے لئے ایک عظیم عہد آفریں واقعہ بننا تھا۔وہاں ایک ایسا مذہبی راہنما مبعوث ہوا جس نے خدا کے اذن سے دور آخر میں ظاہر ہونے والے آسمانی مصلح ہونے کا دعویٰ کیا۔یوں تو دنیا میں ایسے سینکڑوں دعویدار پیدا ہوئے اور آئندہ بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔لیکن اس کے دعوئی میں ایک ایسی بات تھی جو سب سے الگ اور سب سے عجیب تھی۔اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے ایک نئے انداز میں اقوامِ عالم کے اتحاد کی بناء ڈالی اور توحید باری تعالیٰ کی ایک ایسی تفسیر کی جس نے دور آخر میں ظاہر ہونے والے متفرق مصلحین کے پراگندہ تصور کو وحدت کا جامہ پہنایا۔وہ انقلاب آفریں اعلان کیا تھا جس نے اس دور کی مذہبی دُنیا میں ایک ہیجان برپا