تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 283 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 283

۲۸۳ تاریخ : ۲۵ اگست ۱۹۸۸ء مقام: بھابڑہ مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز مغرب اجلاس عام دونوں علماء نے تربیتی امور پر تقاریر کیں۔نماز با جماعت کی طرف توجہ دلائی۔تاریخ : ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء مقام: گوئی مختصر رپورٹ: نماز جمعہ: مکرم بشیر احمد صاحب قمر نے خطبہ دیا۔خطبہ میں تربیتی امور پر زور دیا گیا۔مباہلہ کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والے نشانوں کا ذکر کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کے اقتباسات پیش کر کے نشانوں کی غرض بیان کی گئی۔حاضری اتنی تھی۔اجلاس عام : بعد نماز جمعہ اجلاس عام منعقد کیا گیا۔تلاوت نظم اور عہد کے بعد مکرم محمد اسلم صاحب صابر نے حضور انور کے خطبہ جمعہ ۷ ارجون کی روشنی میں احباب سے نماز با جماعت کی پابندی اور دعاؤں پر زور دیا نیز حضور کی تحریک وقف نو کی وضاحت پیش کی۔بعد ازاں چند خدام و اطفال سے سوال و جواب ہوئے۔مکرم زعیم صاحب سے جولائی کی رپورٹ تیار کروائی گئی۔مقام : ندیری مقام: چر ناڑی تاریخ: ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز جمعہ گوئی سے وفد ندیری پہنچا۔مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کی گئیں۔تلاوت، نظم اور عہد کے بعد حسب سابق تربیتی امور اور دعوت الی اللہ کے بارہ میں تقاریر ہوئیں۔حاضری پینتالیس رہی۔تاریخ: ۲۷ اگست ۱۹۸۸ء مختصر رپورٹ : اجلاس عام: چر ناڑی کا پروگرام دورہ میں نہیں تھا لیکن چہ ناڑی کے ایک دوست کے اصرار پر بعد نماز فجر اجلاس عام ہوا۔مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر نے وقف نو ، نماز با جماعت اور موجودہ حالات میں دعاؤں اور استغفار کی تلقین کی۔آپس میں اتفاق و محبت سے رہنے پر زور دیا۔حاضری مردوزن بچے پندرہ تھی۔تاریخ: ۲۷ اگست ۱۹۸۸ء مقام خلیل آباد کالونی مختصر رپورٹ : اجلاس عام : بعد نماز مغرب و عشاء اجلاس عام ہوا۔مکرم محمد اسلم صاحب صابر نے وفد کے دورہ کی غرض و غایت بیان کی اور صدر محترم کا سلام انہیں پہنچایا۔اس کے بعد نماز با جماعت کے سلسلہ میں حضور کے ارشادات سنائے اور تحریک وقف نو کے تحت نومولود بچوں کو وقف کرنے کی تلقین کی۔اس کے بعد مکرم مولوی بشیر احمد صاحب قمر نے مباہلہ اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے نشانات کا ذکر کیا اور ان نشانوں کے باعث جماعت احمدیہ پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔کل حاضری چھپیں تھی۔تاریخ: ۲۸ اگست ۱۹۸۸ء مقام : کوٹلی مختصر رپورٹ: نماز تہجد : نماز تہجد ساڑھے تین بجے کوٹلی میں ادا کی گئی۔بارہ ، تیرہ کے قریب تہجد گزار تھے۔اجلاس عام: بعد نماز فجر اجلاس عام ہوا۔تربیتی امور کی طرف خاص توجہ دلائی گئی۔