تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 986
آٹھواں سالانہ اجتماع ۹۸۶ ۲۹،۲۸ مارچ ۱۹۸۶ء کو منعقد ہونے والے جزائر نفی کی ذیلی تنظیموں کے مشتر کہ سالانہ اجتماعات کے لئے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے مندرجہ ذیل پیغام بھجوایا۔و بسم اللہ الرحمن الرحیم لندن پیارے بھائیو اور بہنو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یہ سُن کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ لوگ ۲۸ - ۲۹ مارچ ۱۹۸۶ء کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنے بیش بہا فیوض و برکات کا وارث بنائے اور اس مبارک موقع پر جبکہ آپ سب اکٹھے ہو رہے ہیں ، اپنی بے شمار برکتیں اور رحمتیں نازل کرے اور ہمیشہ آپ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔آمین۔میں جب آپ لوگوں کے پاس آیا تھا تو اس وقت میں نے جو پیغام دیا تھا آج بھی وہی پیغام ہے کہ نظام جماعت کو اچھی طرح سمجھیں اور اپنے اطاعت کے معیار کو بلند کریں اور دل و جان سے بخوشی اس کی پابندی کریں تبلیغ میں ہمہ تن مصروف ہو جاویں۔اپنے باہمی اختلافات کو یکسر مٹا کر باہم پیار و محبت سے زندگی گذاریں۔انما المومنون اخوۃ کے حقیقی مصداق بننے کی کوشش کریں۔دشمن کے پاس دلائل نہیں ہیں۔اس میدان میں وہ شکست کھا چکا ہے اور بے بس ہو چکا ہے۔اس کے پاس اب گالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔یہ لوگ اب پاکستان سے ملاں لا رہے ہیں ، اگر باہر بھی دشمن سے مقابلہ ہو اور اندرونی طور پر بھی لڑائی ہو رہی ہو تو پھر فتح کس طرح ہوگی ؟ آپ کیسے غالب آئیں گے؟ قرآن مجید کے ارشاد أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کے مفہوم کو سمجھیں کہ آپس میں پیار و محبت سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی خاطر اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور دوسری طرف دوسروں پر سختی نہیں بلکہ اُن کے بداثر کو قبول نہیں کرتے اور اپنے اندران کا نفوذ نہیں ہونے دیتے۔آپ لوگ تو رَحْمَةً لِلْعَلَمِنينَ “ کو ماننے والے ہیں۔جس کی رحمت میں اپنے بیگانے سبھی شامل تھے۔ہر کس و ناکس اس چشمہ سے سیراب ہوتا ہے۔آپ خود بھی تو اس چشمہ سے سیراب ہوئے ہیں اب دوسروں کو بھی سیراب کریں۔