تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 59
۵۹ مبارکباد ہے۔والاجر علی الله۔سالانہ رپورٹ بابت سال ۱۹۷۹ء حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی صدارت میں خدا کے فضل سے مجلس نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی۔محترم صدر صاحب مجلس کے ارشاد کی تعمیل میں مجالس کو کار کردگی سے آگاہ رکھنے کے لئے ماہنامہ انصار اللہ میں ۱۹۷۹ء کی سالانہ رپورٹ شائع کی گئی۔اس رپورٹ سے مختلف شعبہ جات کی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی پڑتی ہے۔یہ رپورٹ ماہنامہ انصار اللہ نومبر دسمبر ۱۹۷۹ء سے ذیل میں درج کی جاتی ہے تا احباب کے سامنے اس دور کی سرگرمیوں کی کچھ جھلک نمایاں ہو سکے۔رپورٹ قیادت عمومی سب سے پہلا کام جونی مجلس عاملہ کے تقرر کے فورا بعد کیا گیا، وہ سالانہ لائحہ عمل کی تیاری تھی۔قائدین کرام کی طرف سے جو لائحہ عمل تجویز ہوا، اسے مجلس عاملہ مرکزیہ کی منظوری کے بعد طبع کروا کر مجالس کو بھجوایا گیا۔اس کے بعد لائحہ عمل کی روشنی میں مجالس کے لئے ضروری ہدایات مرتب کر کے انہیں ایک کتابچہ کی صورت میں مجالس کو بھجوائی گئیں تا اس کی روشنی میں سارا سال اپنی کارگزاری کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں۔دفتری کارروائی مکمل کرنے کے بعد میدان عمل کی طرف توجہ دی گئی۔سب سے پہلے 9 فروری کو ناظمین اعلیٰ ، ناظمین اضلاع اور زعماء اعلیٰ کا ایک اجلاس دفتر مرکزیہ میں طلب کیا گیا۔اس اجلاس میں صدر محترم نے کوائف کی روشنی میں مجالس کے کام کا جائزہ لیا اور آئندہ کام کا طریق کار واضح کیا۔عرصہ زیر رپورٹ یعنی گزشتہ نو ماہ میں صدر محترم نے پینتیس مقامات کا دورہ کیا جس میں صوبہ ہائے سرحد، سندھ اور پنجاب کے متعدد شہر اور دیہات شامل ہیں۔صدر محترم کے علاوہ مرکزی نمائندگان اور قائدین مرکز یہ نے بھی بکثرت دورے کیے تاکہ قلیل مدت میں پاکستان کی اکثر مجالس سے موثر رابطہ ہو سکے۔ان دوروں میں مکرم مولانا عبد المالک خان صاحب ، مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد، مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف ، مکرم صوفی بشارت الرحمان صاحب، مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب، مکرم صوفی محمد اسحاق صاحب اور مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اسی طرح مکرم محمد اسلم صابر صاحب کے علاوہ مکرم ملک حبیب الرحمن صاحب قائد عمومی اور نائب قائد صاحب عمومی نے بھی بعض مقامات کے دورے کر کے زعمائے کرام کے کام کا مفصل جائزہ لیا اور انہیں آئندہ کے لئے مفید ہدایات دیں، جماعت کے خور دو کلاں کی تربیت کے علاوہ اصلاح وارشاد کے کام پر زور دیا گیا اور سوال و جواب کی مجالس منعقد کی گئیں اور حاضرین کو مرکز احمدیت میں تشریف لانے کی دعوت دی گئی تا کہ انہیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے علمی اور عملی پہلو اپنی