تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 436
۴۳۶ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے چندہ جلسہ سالانہ کی ادائیگی کی تحریک کی اور اہم اعلان کیا کہ آئندہ مرکز سلسلہ کے طریق کے مطابق جلسہ سالانہ کا چندہ شرح کے مطابق وصول کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔پہلے یہ طریق چلا آرہا تھا کہ ہر جماعت کے ذمہ ایک رقم لگا دی جاتی اور پھر جماعتیں عام تحریک کے ذریعہ چندہ اکٹھا کرتیں اور دوست اس میں اپنے عطیات پیش کرتے۔آپ نے ہر جماعت میں یہ انتظام کرنے کو کہا کہ سب احمدیوں سے دوران سال ان کی ماہانہ آمد کا دسواں حصہ سال میں ایک مرتبہ کے حساب سے وصول کیا جائے۔نیز آپ نے بتایا که امسال سالانہ جلسہ او جوکور و میں ہو گا جہاں پر کہ ہمارا نیا مشن ہاؤس اور ہسپتال وغیرہ زیر تعمیر ہیں۔بعدۂ زاریہ کے اطفال و ناصرات نے عربی زبان میں ترانہ سنایا اور سٹیج کے سامنے مارچ پاسٹ کی۔ان میں سے ایک چھوٹی بچی نے یوروبا میں تقریر کی اور زار یہ آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔پھر ایک اور بچی نے یہی تقریر انگلش میں کی۔اس کے بعد بچے مارچ پاسٹ کرتے اور عربی میں ترانے گاتے ہوئے واپس چلے گئے۔سوال و جواب کا پروگرام : اجتماع کا ایک دلچسپ پروگرام سوال و جواب کا تھا۔یہ سلسلہ تقریباً پون گھنٹہ تک جاری رہا۔مکرم امیر صاحب نے سوالات کے جوابات دیئے۔احمدیہ سنٹرل مسجد زاریہ: احمدیہ سنٹرل مسجد زار یہ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب تیر کے زمانہ میں بنائی گئی تھی اور اب جماعتی ضروریات کے لئے ناکافی محسوس ہوتی تھی۔اس کی جگہ نئی وسیع مسجد تعمیر کرنے کا پروگرام تھا جس کا سنگ بنیاد مکرم امیر صاحب نے اس اجتماع کے دوران رکھا۔نئی مسجد کے لئے عطیات کا روح پرور منظر : نئی مسجد کا سنگ بنیا درکھنے سے قبل مکرم امیر صاحب نے مسجد کی تعمیر کے لئے عطیات پیش کرنے کی تحریک کی اس پر احباب جماعت نے انفرادی طور پر اور اپنے اپنے مشنوں (جماعتوں ) کی طرف سے ایک دوسرے سے بڑھ کر عطیات پیش کئے اور اسی وقت خدا کے فضل سے ۱۳۰۰ نائرے سے زائد رقم نقد ادا کر دی ( جو تقریباً بیس ہزار پاکستانی روپے کے برابر تھی) اس کے علاوہ متعدد جماعتوں نے وعدہ جات کئے۔بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے پہلی مسجد کے احاطہ میں نئی اور وسیع مسجد کی تعمیر کے لیئے سنگ بنیاد رکھا۔سنگ بنیاد کے لئے استعمال کی گئی اس اینٹ پر سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے دُعا کی تھی۔اس کے بعد پریذیڈنٹ جماعت نائیجیر یا مکرم الحاج عبدالعزیز صاحب ابیولا صاحب نے ایک اینٹ رکھی۔بعدۂ مکرم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کرائی۔اختتامی خطاب ودعا سنگِ بنیادرکھنے کے بعد مکرم امیر صاحب نے اختتامی تقریر کی۔آپ نے مسجد کی تعمیر کے لئے ڈیڑھ ہزار نائزے کے عطیہ کا اعلان کیا اور دور دور سے آنے والے احباب کے لئے دعا کی درخواست کی نیز جماعت زاریہ کی خدمات کو سراہا۔دعا پر یہ بابرکت اجتماع پونے گیارہ بجے کے قریب ختم ہوا۔﴿۱۰﴾