تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 376 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 376

صدر محترم کا دورہ فیصل آباد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۰ء بروز جمعہ فیصل آباد کے دورہ پر تشریف لے گئے۔آپ کا یہ دن بہت مصروف گزرا۔دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک آپ نے مسجد احمد یہ گھسیٹ پورہ ( فیصل آباد سے ۷ امیل کے فاصلے پر) میں تربیتی اجتماع میں شرکت فرمائی۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد مکرم چوہدری احمد دین صاحب نے مقامی مجلس اور ضلع کی مختصر رپورٹ کارگزاری پیش کی۔اس کے بعد صدر محترم نے تقریباً ایک گھنٹہ خطاب فرمایا جس میں آپ نے فرمایا کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمارا قدم کس حد تک آگے بڑھا ہے اور اگر ہمارا قدم آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہٹ گیا ہے یا ایک مقام پر جا کر ٹھہر گیا ہے تو ہمیں فکر کرنی چاہئے اور ان وجوہات کی تلاش ہونی چاہئے جو اس کی محرک بنی ہیں اور وہ طریقے اختیار کرنے چاہئیں جو ہمیں آگے بڑھانے کا باعث ہوں۔ہمیں مایوس ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود نے تو ہمیں یہ فرمایا ہے ؎ بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ہمیں تو اس جذبہ کی وجہ سے خوش ہونا چاہئیے۔خدا تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔اس اجتماع میں ۳۰۷ افراد نے شرکت کی۔صدر محترم گھسیٹ پورہ سے تقریباً بارہ بجے فیصل آباد تشریف لائے۔بعد طعام مسجد احمد یہ فیصل آباد میں آپ نے ڈیڑھ بجے سے اڑھائی بجے تک خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس میں سورۃ الحشر کی ان آیات کی پُر معارف تفسیر بیان فرمائی: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللهَ فَأَنْهُمْ أَنْفُسَهُمْ أُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ آپ نے فرمایا کہ ہمیں اپنے نفسوں کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم نے اپنے نامہ اعمال میں آخرت کے لئے کیا جمع کیا ہے۔خدا تعالیٰ ہمارے اعمال بلکہ ہماری نیتوں تک کو جانتا ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم خود کو ان لوگوں کی طرح نہ بنائیں جو نافرمانی کی وجہ سے قعر مذلت میں گر گئے۔نماز جمعہ کے بعد انصار اللہ کا تربیتی اجتماع منعقد ہوا۔صدر محترم نے اپنے خطاب میں انصار کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جو عمر کے لحاظ سے اور خاندان کے سر براہ ہونے کے لحاظ سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ انصار اللہ نے نو جوانوں اور بچوں کی اصلاح کرنی ہے اور معاشرہ کو ہر قسم کی برائی سے پاک کرنے کی سعی کرنی ہے۔نیز آپس میں اس محبت اور اخوت کے بے مثال رشتے کو قائم کرنا ہے جس کا ذکر قرآن