تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 305
۳۰۵ مجلس انصار اللہ کا مالی نظام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں جماعتی مالی نظام جن بنیادوں پر قائم ہے ،مجلس انصار اللہ کا مالی نظام بھی انہی خطوط پر استوار ہے۔کسی تنظیم کا بجٹ اس امر کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ اس میں زندگی کی روح اور ترقی کی صلاحیت کس قدر موجود ہے۔الحمد للہ کہ انصار اللہ کا ہر نیا سال یہ واضح کرتا ہے کہ یہ تنظیم مالی اعتبار سے وسعت پذیر ہے، سال بہ سال مضبوط سے مضبوط ہو رہی ہے اور اس کے کاموں میں پختگی روز افزوں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق خلافت کی برکت سے اس تنظیم کو بھی مالی فراخی عطا فرمائی۔ایک سرسری سا جائزہ لینے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہر سال بجٹ میں بفضل ایزدی اضافہ ہوتا گیا اور اس طرح اس کا مالی نظام دن بدن مستحکم ہوتا چلا جارہا ہے۔اس حقیقت کی تصدیق مجلس کی آمد وخرچ کے گوشوارہ سے ہوتی ہے۔مجلس شوریٰ میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں جہاں ہر سال تدریجی اضافہ تجویز کیا جا تا رہا۔وہاں اراکین نے بھی قربانیوں میں اپنا قدم مسلسل آگے رکھا اور نَحْنُ اَنْصَارُ اللہ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مجوزہ بجٹ سے بہت زیادہ رقم خدا کے حضور پیش کرنے کی توفیق پائی۔چنانچہ مجلس کا پہلا بجٹ (۴۵ ۱۹۴۴ء) جوصرف ایک ہزار آٹھ سوروپے پر مشتمل تھا، ۱۹۸۲ء میں بڑھ کر چھلا کھ سترہ ہزار روپے ہو گیا جبکہ آمد بفضل تعالیٰ آٹھ لاکھ انچاس ہزار سے تجاوز کر گئی۔قبل اس کے کہ مجوزہ بجٹ اور اصل آمد و خرچ کے تفصیلی گوشوارے پیش کئے جائیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بجٹ کے بعض اہم نکات کا سال وار جائزہ بھی پیش کر دیا جائے۔بجٹ کے خصوصی نکات ۱۹۸۰ء : نمد سائر میں تین نئی مدات اصلاح وارشاد، سفر خرچ ناظمین اضلاع اور مہمان نوازی، قائم کی گئیں اور ان کے لئے علی الترتیب پانچ ہزار ، چار ہزار اور تین ہزار روپے تجویز کئے گئے۔۱۹۸۱ء : 'مد سائر میں ایک نئی مد فرسودگی کار قائم کر کے اس کا بجٹ پندرہ ہزار روپے تجویز کیا گیا۔مد متفرق غیر معمولی کو دو مدات مد متفرق اور مر غیر معمولی میں تقسیم کیا گیا اور ان کے لئے بالترتیب اڑھائی ہزار اور پانچ ہزار روپے رکھے گئے۔۱۹۸۲ء: مد عملہ میں مجالس بیرون کے لئے ایک نئی اسامی کلرک CUM ٹائپسٹ رکھی گئی۔عملہ ماہنامہ انصار اللہ کی تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ بھی مد عملہ مرکزیہ سے ادا کئے گئے۔