تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 295 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 295

۲۹۵ پاکستان میں: چنده مجلس: حصہ مرکز ۶۷ فیصد حصہ ناظمین علاقہ واضلاع ۵ فیصد۔حصہ مقامی مجلس ۲۸ فیصد چندہ سالانہ اجتماع اور چندہ اشاعت لٹریچر سو فیصد مرکز میں بھجوایا جائے گا۔ب۔ممالک بیرون میں: چنده مجلس: حصہ مرکز ۲۰ فیصد - حصہ ملک ۵۰ فیصد - حصہ مقامی ۳۰ فیصد چندہ سالانہ اجتماع: حصہ مرکز ۱۰ فیصد۔حصہ ملک ۹۰ فیصد چندہ اشاعت لٹریچر : حصہ سو فیصد ارشاد حضور انور : ۲۲۹ سے متعلق فیصلہ ۲۲۸ کے بارہ میں فیصلہ پر منحصر ہوگا۔“ سفارش مرکزی عاملہ قاعدہ نمبر ۲۸ پر سفارش کی روشنی میں مجوزہ قاعدہ نمبر ۲ حذف کر دیا جائے۔فیصلہ حضرت خلیفہ اسیح: حضور نے ✓ کا نشان لگا کر منظوری عطا فرمائی۔سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے ۲۷ جولائی ۱۹۸۲ء کوحضرت خلیفہ المسیح الرابع ” نے دستور اساسی کے قواعد نمبر ۴۲ و ۴۶ کی مجوزہ شکل بصورت قاعدہ نمبر ۷۳ مجلس شوری ۸۲ء میں پیش کرنے کا ارشاد فرمایا۔اس قاعدہ کی رو سے تجویز کیا گیا تھا کہ مجلس شوری کے لئے نمائندگان مجالس کی مقرر کردہ تعداد میں زعیم اعلیٰ / زعیم بھی شامل ہوں گے۔مذکورہ قاعدہ شوری ۸۲ء میں پیش کیا گیا تو مجلس شوری نے بھاری اکثریت سے سفارش کی کہ زعیم اعلیٰ / زعیم مجلس حسب سابق اپنے عہدہ کے اعتبار سے مجلس شوری کے رکن ہوں اور انہیں مجلس متعلقہ کے لئے مقرر کردہ تعداد میں شامل نہ کیا جائے۔یہ سفارش حضور انور کی خدمت میں پیش کر کے منظوری حاصل کی گئی۔﴿۷﴾ نظر ثانی شدہ دستور حضور کی منظوری سے یکم جنوری ۱۹۸۳ء سے نافذ ہوا اور مئی ۱۹۸۳ء میں طبع ہوا۔مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے دستور اساسی کا پانچواں ایڈیشن تھا۔