تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 264
۲۶۴ پیدا ہو جاتے ہیں۔صدر محترم نے فرمایا کہ تبلیغ کا جو منصوبہ بھی آپ بنا ئیں وہ براہ راست مجھے بھجوائیں، میں اسے خود آگے قیادت اصلاح وارشاد کو بھجواؤں گا۔مرکز آپ کو ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے۔آپ آگے بڑھیں اور اس اہم کام کی ادائیگی پر کمر بستہ ہو جائیں۔انشاء اللہ کا میابی آپ کے قدم چومے گی۔آخر میں صدر محترم نے دعا کروائی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشترکہ کوششوں میں برکت ڈالے اور بیش از پیش نتائج مرتب فرمائے۔آمین۔رات پونے گیارہ بجے اجلاس بخیر و خوبی انجام پذیر ہوا۔(۸) مقابلہ حسن کارکردگی بین المجالس و اضلاع مجالس اور عہدیداران ضلع کے مابین مسابقت نیز حوصلہ افزائی کی خاطر قواعد کی روشنی میں علی الترتیب علیم انعامی اور اسناد خوشنودی دیئے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ہر سال صدر محترم قائدین پر مشتمل علم انعامی کمیٹی تشکیل دیتے رہے۔یہ کمیٹی مجالس اور اضلاع کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ صدر مجلس کی خدمت میں پیش کرتی رہے۔ان رپورٹس کو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں زیر بحث لا کر اور پھر مجلس عاملہ سے مشورہ کے بعد صدر محترم نتائج کو خلیفہ وقت کے حضور پیش کر کے منظوری حاصل کرتے رہے۔۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۲ء تک کے نتائج حسب ذیل ہیں: مقابلہ بین المجالس ۱۹۷۹ء اول اور علیم انعامی کی حقدار: ناظم آباد کراچی دوم: فیصل آبادشہر سوم: ماڈل ٹاؤن لاہور چهارم: پنجم : دارالذکر لاہور ششم: صدر کراچی ہفتم: سیالکوٹ شہر یہ پارک لاہور دهم: شیخوپورہ شہر ہشتم: گجرات شہر نم گھر شہر ۱۹۸۰ء اول اور علیم انعامی کی حقدار: عزیز آباد کراچی دوم : ناظم آباد کراچی سوم : فیصل آباد شهر چهارم: اسلامیہ پارک لاہور پنجم: ربوہ مقامی ششم: ڈرگ روڈ کراچی ہفتم: ماڈل ٹاؤن لاہور ہشتم: دارالذکر لاہور نهم گجرات شہر دہم : شیخوپورہ شہر ۱۹۸۱ء اول اور علیم انعامی کی حقدار: عزیز آباد کراچی دوم فیصل آباد شهر سوم: ربوہ مقامی چہارم: ڈرگ روڈ کراچی پنجم : ناظم آباد کراچی ششم اسلامیہ پارک لاہور ہفتم: سرگودھا شہر هشتم شیخو پوره شهر نهم : دارالذکر لاہور دہم : ماڈل ٹاؤن لاہور ۱۹۸۲ ء اول اور علیم انعامی کی کی حقدار: گجرات شہر