تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 250 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 250

۲۵۰ ناظمین علاقہ انصار اللہ ۱۹۷۹ء میں ملک کے بعض حصوں کو علاقوں میں تقسیم کر کے وہاں ناظمین علاقہ کا تقرر کیا گیا۔مندرجہ ذیل انصار کو اس حیثیت میں خدمت کی توفیق ملی۔صوبہ سرحد مکرم چوہدری رکن الدین صاحب، جون ۱۹۷۹ء سے مکرم پر وفیسر ناصر احمد صاحب پیشاور۔صوبہ سندھ مکرم قریشی عبدالرحمان صاحب سکھر۔صوبہ بلوچستان: مکرم میاں بشیر احمد صاحب کوئٹہ۔آزاد کشمیر: مکرم شریف احمد صاحب چغتائی۔ناظمین اضلاع انصار اللہ دستور اساسی مجلس انصار اللہ کے مطابق ضلع کے اعلیٰ عہدیدار کو ناظم ضلع کہتے ہیں۔ضلع کی جملہ مجالس کو بیدار رکھنا اور مرکزی ہدایات اور لائحہ عمل پر پوری طرح عمل کروانا ناظم ضلع کے فرائض میں داخل ہے۔ناظم ضلع اپنی مجلس عاملہ کو نامزدکر کے صدر مجلس سے منظوری حاصل کرتے ہیں۔مجلس عاملہ ضلع کا اجلاس ہر تین ماہ میں ایک بار ضروری ہے نیز ہر سال ضلعی مجالس کا سالانہ اجتماع منعقد کروانا ناظم ضلع کا فرض ہے۔ناظم ضلع کو ہر ماہ اپنے کام کی رپورٹ صدر مجلس کی خدمت میں بھجوانا ہوتی ہے۔۱۹۸۲ء تک ناظمین اضلاع کا باقاعدہ انتخاب ہوتا تھا جس میں ماتحت مجالس کے زعماء شریک ہوتے تھے اور یہ انتخاب تین سال کے لئے ہوتا تھا۔صدر مجلس اس کی منظوری عطا فرماتے تھے۔۱۹۸۳ء سے دستور اساسی کا یہ قاعدہ تبدیل ہو گیا اور ناظم ضلع کا تقرر بذریعہ نامزدگی قرار پایا جوصدر مجلس ایک سال کے لئے کرتے ہیں۔﴿۳﴾ ذیل میں ناظمین کے اسماء کی فہرست سال تقرری کے ساتھ دی جاتی ہے۔ہزارہ ڈویژن :۸۲-۱۹۷۹ء سید منیر احمد ہاشمی صاحب پشاور: ۱۹۷۹ء خان عبد السلام خان صاحب ۸۲-۱۹۸۰ء محمد رشید میر صاحب مردان : ۱۹۷۹ء بادشاہ گل صاحب بہاولپور : ۱۹۷۹ء مرزا ارشد بیگ صاحب ۸۲۰ - ۱۹۸۰ء چوہدری نذیر احمد صاحب بہاولنگر : ۱۹۷۹ء چوہدری غلام نبی صاحب ،۸۲ - ۱۹۸۰ ء مولوی محمد شفیع صاحب جھنگ : ۱۹۷۹ ء میاں ناصر علی صاحب ۸۲ - ۱۹۸۰ ء چوہدری عبد الغنی صاحب جہلم:۸۲-۱۹۷۹ء سید بشیر احمد شاہ صاحب