تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 244 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 244

۲۴۴ مدد مانگتے ہیں یا نہیں۔اگر بالالتزام توجہ سے ایسا نہیں کرتے تو اب شروع کر دیں کارروائی اجلاسات یہ اجلاسات صدر مجلس یا ان کے قائم مقام کی صدارت میں منعقد ہوتے ہیں۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوتا ہے اور پھر عہد دہرایا جاتا ہے۔یکم جنوری ۱۹۷۹ء سے ۱۰ جون ۱۹۸۲ ء تک مجلس عاملہ کے کل اکیالیس اجلاسات ہوئے۔مرکزی عاملہ کے چندا جلاسات کی کارروائی مختصر رپورٹ کی شکل میں بطور نمونہ ہدیہ قارئین کی جاتی ہے۔اجلاس مورخه ۲۵ اپریل ۱۹۷۹ء مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ کا ماہانہ اجلاس مورخہ ۱۲۵ اپریل ۱۹۷۹ ء بوقت پانچ بجے شام زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس دفتر انصار اللہ مرکزیہ میں منعقد ہوا۔حسب معمول قائدین نے اپنی اپنی ماہوار رپورٹیں پڑھ کر پیش کیں جن پر صدر محترم نے تبصرہ کرتے ہوئے قائدین کو ضروری ہدایات دیں۔بعدہ چندہ ماہنامہ انصار اللہ میں اضافہ کی تجویز زیر غور لا کر طے کیا گیا کہ فی الحال سالانہ چندہ دس روپے سے بڑھا کر بارہ روپے سالانہ کر دیا جائے اور مستقل فیصلہ کے لئے یہ معاملہ آئندہ شوریٰ انصار اللہ کے ایجنڈا میں رکھا جائے۔یہ اضافہ فوری طور پر قابل نفاذ ہوگا۔صدر محترم نے فرمایا ” اگر میں ہی ہر ضلع اور حلقہ کا دورہ کروں اور کام کی رفتار تیز کرنے اور صحیح صورت میں ادا کرنے کے لئے ہدایات دوں تو پھر اتنا وسیع کام تو ایک سال میں بھی ختم نہ ہو گا۔لہذا میری تجویز یہ ہے کہ قائدین کرام کو مختلف ٹیموں میں تقسیم کر دوں اور ہر ٹیم اپنے ذمہ بعض علاقے لے لے اور وہاں اجلاس اور اجتماع منعقد کر کے ہر کارکن اور ناصر بھائی کے کام کا جائزہ لیں۔اس غرض کے لئے میں مختصر طور پر چند اصولی ہدایت دے دیتا ہوں۔موقع کی مناسبت سے مرکزی نمائندگان ان کو مد نظر رکھیں۔ا۔جو انصار بہت بوڑھے ہیں یا ان پڑھ ہیں اور انہوں نے مجلس کے لئے کہیں کوئی کام نہیں کیا بلکہ ایک طرح عضو معطل ہو کر رہ گئے ہیں، ایسے بزرگوں سے ذاتی طور پر وعدہ لیں کہ وہ مجالس کے لئے کوئی نہ کوئی کام کریں مثلاً وہ ان کو جو نماز با جماعت میں سستی دکھاتے ہیں، اپنے ہمراہ مسجد میں لایا کریں۔اگر وہ ہر روز یہ کام نہ کر سکیں تو فی الحال ہر دوسرے دن یا ہفتہ میں ایک دو دفعہ ہی یہ نیک کام انجام دیا کریں۔نیز اس مجلس کے عہد یداروں خصوصاً زعیم صاحب یا نائب زعیم صاحب کو اس نیک کام کا ذمہ دار قرار دیں اور وہ اپنی رپورٹوں میں خصوصی طور پر اس کا ذکر کیا کریں۔اس ضمن میں تمام انصار بھائی اپنے تمام گھر والوں کا جائزہ لیں۔اگر ان کے بچے نماز با جماعت میں غفلت