تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 225
۲۲۵ کی وہ معرفت رکھتا ہے، جس کی نعماء سے اس کی جھولیاں بھری ہوئی ہیں ، جو ہر دُ کھ کے وقت اس کے دُکھ درد کو دور کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے، جو اتنا پیار کر نیوالا ہے کہ اس کی خطاؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے موسلا دھار بارش کی طرح اپنی نعمتیں اس کے اوپر برسا رہا ہے ،اس کو کوئی گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔سب سے زیادہ دکھ وہ یہ بات ہے مگر حکم یہ ہے۔لا تسبوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (الانعام : ۱۰۹) یہ میں نواہی میں سے، جو روکنے والی چیزیں ہیں ان میں سے سب سے سخت یہ لے رہا ہوں وَلَا تَسُبُوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ تو ساری نواہی جو کہتے ہیں نہ کر، نہ کر ، نہ کر ، یہ نہ کر، یہ نہ کر، یہ نہ کر۔وہ ساری نواہی جو ہیں وہ انسانی زندگی سے گند کو اور نا پا کی کو دور کر نیوالی ہیں۔اس واسطے ہمارے سارے پروگرام ایسے ہونے چاہئیں جو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے نا پا کی کو دور کرنے والے ہوں۔اللہ کی صفات حسنہ کا رنگ اختیار کرو اب میں اوامر کی طرف آتا ہوں۔سب سے مقدم یہ ہے کہ صفات حسنہ کا رنگ اپنی زندگی پر چڑھاؤ۔خدا تعالیٰ اپنی صفات میں اور محامد میں من کل الوجوہ کامل ہے۔اور قرآن کریم کے سارے اوامر ہر حکم جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کا رنگ ہمارے اوپر چڑھانے والا ہے۔اگر ہم قرآن کریم کی تعلیم کو گلی طور پر فالو (FOLLOW) کر نیوالے ہوں إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس آیت : ۱۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر وحی قرآنی کی اتباع کرنے والے ہوں تو ہماری زندگی ساری کی ساری ایسی ہو جائے جس میں اللہ تعالیٰ کے نور اور اس کی چمک دنیا کو نظر آئے۔ربوبیت کی صفت پیدا کرو میں ساری صفات کا تو اس وقت ذکر نہیں کر سکتا، ایک کا کروں گا۔جس طرح نواہی کے ضمن میں میں نے لیا تھا کہ لا تسبوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ اسی طرح اوامر میں جو وسعت کے لحاظ سے سب سے بڑی بات ہے، وہ امر میں لیتا ہوں۔وہ امر ہے، ربوبیت۔اللہ رب ہے۔ہمیں کہا ہے کہ جہاں تک تمہیں خدا طاقت اور استعداد دے، اندرونی طور پر بھی یعنی اپنی سوسائٹی میں بھی اپنے ماحول میں بھی اور ساری دنیا میں بھی جہاں بھی مدد کی اور ربوبیت کی ضرورت ہو جہاں تک تمہیں خدا تعالی طاقت دے ، وہ تمہیں کرنی چاہیے۔ہماری زندگی اپنے وسائل کے لحاظ سے محدود ہے ( میں نے ”ہماری جب کہا ”جماعت احمدیہ کی میری مراد ہے ) جماعت احمدیہ کی زندگی اپنے وسائل کے لحاظ سے محدود ہے لیکن اپنے فرائض کے لحاظ سے غیر محدود ہے۔اس واسطے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم