ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 33
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۳۳ اردو تر جمه وصايا الملة وهجوا الاتقياء انکار کر دیا اور انہوں نے متقی اور برگزیدہ والاصفياء وتركوا الصلوۃ لوگوں کی ہجو کی اور انہوں نے نماز ترک کی واكلوا الخنزیر و شربوا اور سور کھایا ،شراب پی اور اپنے جیسے الخمر وعبدوا انسانا كمثلهم محتاج آدمی کی عبادت کی۔اور خیر العباد الفقير۔وسبق بعضهم على صلى اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے میں ان البعض في سبّ خير العباد۔میں سے بعض بعض پر سبقت لے گئے اور وقذفوا عرض خير البرية انہوں نے دشمنی سے خیر البریہ صلی اللہ علیہ و بالعناد۔ألفوا كتبا مشتملة سلم کی عزت پر بہتان تراشی کی۔انہوں نے على السب والشتم والمكاوحة سب و شتم اور دُشنام دہی اور بے حیائی اور والقحة ممزوجة بانواع مختلف قسم کے گند پر مشتمل اور بہت سے العذرة مع دجل کثیر لاغلاط دھو کہ پر مبنی کتا بیں لکھیں تا کہ عام لوگوں کو العامة۔وبلغ عدد بذاء هم مغالطہ میں ڈالیں اور ان کی بدزبانی کی الى حد لا يعلمه الاحضرة تعداد اس حد تک پہنچ گئی کہ اسے صرف العزة۔فانظروا كيف يعضل حضرت باری تعالی ہی جانتا ہے۔پس تم الأمر عند الاستغاثاة ويلزم دیکھو کہ مقدمہ بازی کے وقت معاملہ کس ان نعدو كل يوم الى قدر پیچیدہ ہو جاتا ہے اور ضروری ہو جاتا المحاكمات۔و ان هي الا من ہے کہ ہم ہر روز فیصلوں کے لئے عدالتوں کی المحالات۔هذه دلائل هذه طرف دوڑیں تو یقیناً یہ محالات میں سے الفرقة والآخرون يؤثرون ہے۔یہ اس گروہ کے دلائل ہیں اور دوسرے طرق الاستغاثة۔ولكنا مقدمہ بازی کے راستوں کو ترجیح دیتے ہیں لا نرى عندهم شيئًا من لیکن ہم اُن کے پاس اس مصلحت کے متعلق الادلة على تلك المصلحة۔کوئی دلائل نہیں دیکھتے یہ تو محض عام معمولی ۴۰۷