ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 13

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۱۳ اردو تر جمه ونکسر اقلامهم۔ونجعل قلموں کو توڑیں اور ان کی باتوں کو چبانے والوں كلمهم مضغة للماضغين۔کے لئے تر نوالہ بنا دیں اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وان لم نفعل هذا فما فعلنا شيئًا گویا ہم نے دین کی خدمت کے لئے کچھ بھی نہ في خدمة الدين۔وما عرفنا کیا اور نہ ہی ہم نے سب سے بہترین محسن خدا صنيعة الله خير المحسنين۔کے احسان کو پہچانا اور نہ ہی ہم نے شکر ادا کیا وماشكرنا بل انفدنا الوقت بلکہ ہم نے غفلت میں زندگی گزار دی۔یقیناً غافلين فان الله وهب لنا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان معاملات کے لئے مکمل حريةً تامّةً لهذه الامور لنحق آزادی دی ہے تا کہ ہم حق کو ثابت کریں اور الحق و نبطل ما صنع اهل الزور۔جو جھوٹوں نے باتیں بنائی ہیں ، انہیں ہم باطل فلولم نمتع بهذه الحريّة۔فما کریں پس اگر ہم نے اس آزادی سے فائدہ شکرنا نعم الله ذی الجود نہ اُٹھایا تو ہم نے فیاض اور سخی اللہ کی نعمتوں والموهبة۔ومــا كـنــامـن وما كنامن کا شکر ادا نہ کیا اور نہ ہی ہم شکر گزاروں الشاكرين۔الم تروا کیف میں سے ہوئے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ہم کس نعيش احرارا تحت ظل هذه طرح آزادی سے اس حکومت کے زیر سایہ السلطنة۔و كيف خُيّرنا فی رہتے ہیں۔اور کس طرح ہمیں ہمارے دین ديننا و اوتينا حرية فى مباحث کے معاملے میں اختیار دیا گیا ہے اور ہمیں ملتِ الملة الاسلامية۔وأخرجنا اسلامیہ کے مباحثات میں آزادی دی گئی ہے من حبس كنا فيها في عهد اور ہمیں اس قید سے نکالا گیا ہے جس میں ہم دولة الخالصة۔وفُوّضنا الى سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں تھے اور ہمیں قوم راحمين۔و ان حكامنا رحم کرنے والی قوم کے سپرد کیا گیا اور یقیناً لا يمنعوننا من المناظرات ہمارے حکام ہمیں مناظرات اور مباحثات والمباحثات۔ولا يكفئوننا سے منع نہیں کرتے اور اگر بحث نرم پیرائے ۳۸۷