تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 500 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 500

500 ۱۹۵۸ء حضرت سیدہ ام ناصر کی وفات لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی صدارت کے لئے حضرت مریم صدیقہ صاحبہ کا انتخاب پہلی سالانہ رپورٹ کی اشاعت اب ہم لجنہ اماء اللہ کے چھتیسویں سال میں داخل ہو جاتے ہیں۔اس سال کے اہم ترین واقعات میں سے ایک واقعہ تمام جماعت احمدیہ کے لئے اور بالخصوص لجنہ کے لئے المیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔یعنی لجنہ اماء اللہ کی بزرگ صدر حضرت سیدہ ام ناصر رضی اللہ عنہا ( جو متواتر ۳۶ سال تک لجنہ کی صدرر ہیں) کی المناک وفات جس نے احمدی مستورات کو گہرے غم واندوہ میں مبتلا کر دیا۔اس سال کا دوسرا نہایت اہم واقعہ لجنہ مرکزیہ کے صدر کا انتخاب ہے جس کے نتیجہ میں لجنات کی متفقہ رائے سے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر کے عہدہ پر فائز ہوئیں اور اس طرح لجنہ اماءاللہ کی زندگی میں ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہوا جو نہایت مبارک ثابت ہوا۔اور جس میں اس کا ہر قدم ترقی کی طرف تیز سے تیز تر ہوتا چلا گیا۔عہد یداران مرکز یه ۱۹۵۸ء: ۱۹۵۸ء کے لئے مندرجہ ذیل مرکزی عہدیداران کا تقرر عمل میں آیا :۔صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ حضرت سیدہ ام ناصر رضی اللہ عنہا جنرل سیکرٹری حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نائب جنرل سیکرٹری سیده نصیرہ بیگم صاحبہ