تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 464
464 انڈسٹریل سکول کے لئے ہال لجنہ اماءاللہ میں گیلری کی تعمیر:- لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے زیر اہتمام صنعتی سکول کی باضابطہ منظوری حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اس کے لئے کوئی عمارت موجود ہو۔اسی ضرورت کے پیش نظر لجنہ اماءاللہ ہال کے ایک طرف گیلری تعمیر کی گئی۔اس کی تعمیر ۱۹۵۷ء میں شروع ہوئی اور ۱۹۵۸ء میں مکمل ہوئی۔اس پر آٹھ ہزار روپیہ لاگت آئی۔۷ جون ۱۹۵۸ء کو اس گیلری کا افتتاح عمل میں آیا۔لاؤڈ سپیکر :- لجنہ کو اپنے لاؤڈ سپیکر کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی تھی۔عام جلسوں اور تقریبات کے علاوہ سالانہ اجتماع اور جلسہ سالانہ پر بھی دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔لہذا ۱۹۵۷ء میں ایک ہزار نو سو چھپیس روپے میں لاؤڈ سپیکر خرید لیا گیا جواب تک (۱۹۷۱ء) استعمال ہوتا ہے۔مسجد ہیمبرگ (جرمنی) کی تعمیر میں مستورات کا حصہ :۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جرمنی میں ایک مسجد بنانے کی تحریک فرمائی جس کے خرچ کا اندازہ ڈیڑھ لاکھ روپے تھا۔یہ تحریک گو تمام جماعت کے لئے تھی لیکن جماعت کی مخلص اور قربانی کرنے والی خواتین نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس تحریک میں شامل ہونے والوں کے لئے کم از کم ڈیڑھ صد روپے دینے کی شرط تھی۔ذیل کی فہرست بتاتی ہے کہ احمدی مستورات نے کس طرح اس مسجد کیلئے مالی قربانی پیش کی۔اس مسجد کی بنیاد ۲۲ فروری ۱۹۵۷ء کو رکھی گئی اور ۲۲ جون ۱۹۵۷ء کو اس کا افتتاح ہوا۔جس کے لئے مرکز سے حضرت مصلح موعودؓ نے خاص طور پر صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب کو ہیمبرگ بھجوایا۔مسجد جرمنی میں حصہ لینے والی خواتین :۔- حضرت علیہ اسیح الثانی رضی الله عند از طرف حضرت سیدہ ام نا صر صاحبہ خدا ا رجسٹر کا روائی لجنہ مرکزیہ سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ ۱۹۵۸ء صفحہ۹ رقم