تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 400
400 لجنہ اماءاللہ کی دسویں شوری محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔علاوہ مرکزی عہدہ داران کے ۲۵ لجنات نے شمولیت کی۔تجاویز اور فیصلہ جات حسب ذیل ہیں:۔تجویز چندہ مسجد ہالینڈ : ۲۷ دسمبر کی تقریر میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہالینڈ میں ہماری جماعت کی مستورات کی ہمت سے مسجد تو بن گئی ہے لیکن ابھی اس کا کچھ حصہ باقی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال رہے اور ہماری عورتیں کچھ اور ہمت کر کے مزید ۳۳ ۳۴ ہزار روپیہ کا انتظام کر دیں تو انشاء اللہ مسجد مکمل اور - ہزار کا کردیں تو ہو جائے گی“ حضرت اقدس کے مختصر الفاظ کو سامنے رکھ کر اس رقم کی وصولی کے متعلق نمائندگان سے تجاویز پوچھی گئیں۔فیصلہ:۔سب نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ رقم تمام لجنات پر حصہ وار پھیلا دی جائے اور نگرانی کے ساتھ اس کی وصولی کا انتظام کیا جائے۔اجلاس میں حاضر تمام نمائندگان نے یہ عہد کیا کہ مسجد ہالینڈ کے لئے مزید رقم خواہ وہ کتنی ہو اور کتنے سال تک لگا تارکیوں نہ دینی پڑے، بہر حال ہم نے ادا کر کے دم لینا ہے۔جب لجنہ اماءاللہ نے ایک کام کا بیڑا اٹھایا ہے تو اس کا انجام تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ہماری کتنی خوش قسمتی ہے کہ یورپ میں سب سے پہلی مسجد لجنہ اماءاللہ کی بنوائی ہوئی ہے۔تجویز:۔چندہ سکنڈے نیوین مشن:۔ا اس چندہ کے لئے حضور نے ماہ اکتوبر ۱۹۵۵ء میں جہاں باقی جماعت کو اس چندہ میں حصہ لینے کی تحریک فرمائی وہاں لجنہ اماءاللہ کوبھی تین ہزار روپے کی رقم ادا کرنے کو کہا۔” اس تحریک پر پورے تین ماه گذر چکے ہیں لیکن یہ حقیر رقم ادا نہیں ہوئی۔“