تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 360
360 زیادہ موزوں ہو۔میں ہمیشہ آپ سے اپنی بیویوں اور بچوں سے زیادہ محبت کرتا رہا ہوں اور اسلام اور احمدیت کی خاطر اپنے ہر قریبی اور عزیز کو قربان کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہا ہوں۔میں آپ سے اور آپ کی آنے والی نسلوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں کہ آپ بھی ہمیشہ اسی طرح عمل کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔حضور پر اس قاتلانہ حملہ کی خبر سنتے ہی تمام جماعت میں بلکہ غیر از جماعت شرفاء میں بھی رنج وغم اور غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔جماعت کے ہر حصہ اور ہر طبقہ نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے حضور کی قیمتی جان بچالی وہاں قرار دادوں کے ذریعہ حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ حملہ آور اور اگر اس کے پیچھے کوئی سازش کارفرما ہے تو اس کی پوری پوری تحقیقات کرے اور حملہ آور کو قرار واقعی سزادے کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے۔اس موقعہ پر بجنات نے بھی کثرت کے ساتھ حضور کے لئے صدقات دیئے۔اجتماعی دعائیں کیں اور حملہ آور کی مذمت میں قراردادیں پاس کیں۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ اور لجنہ ربوہ نے مندرجہ ذیل قرار داد پاس کی۔قرار داد مذمت:۔مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۵۴ء کو زیر صدارت سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ لجنہ اماء الله مرکز یہ ولجنہ ربوہ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل قرارداد مذمت پاس کی گئی:۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ولجنہ ربوہ کا یہ غیر معمولی اجلاس اس حملہ پر انتہائی رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتا ہے جو ایک نادان دشمن نے ہمارے پیارے آقا اور محبوب مطاع سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز پر کیا ہے۔یہ اجلاس اس گندی اور سفاک ذہنیت کی پر زور مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں یہ خطرناک اقدام کیا گیا۔نیز یہ اجلاس حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ اس واقعہ کی پوری پوری تحقیق کی جائے اور جو خفیہ ہاتھ اس حملہ کے پیچھے کام کر رہا ہے اس کا پوری طرح انکشاف کیا جائے اور جولوگ اس جرم کے المصلح ۱۲ مارچ ۱۹۵۴ صفحریر