تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 337 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 337

337 پاکستان منعقد کئے جاتے رہے۔ان مواقع پر سٹال لگائے جاتے رہے اور بچوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔سٹال کی آمد اشاعت اسلام کے لئے جمع کروا دی جاتی ہے۔۱۹۵۳ء میں حضرت سیّدہ ام داؤد صاحبہ نا ئب صدر لجنہ مرکزیہ کی وفات پر ان کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔۱۹۵۸ء میں حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کی وفات پر ان کی یاد میں جلسہ منعقد کیا گیا۔ناصرات الاحمدیہ:۔ناصرات کو منظم کیا گیا۔سات حلقے ناصرات کے بنائے گئے۔۱۹۵۸ء میں صاحبزادی امتة الباسط صاحبہ بیگم سید داؤ داحمد صاحب کو سیکرٹری ناصرات الاحمدیہ مقرر کیا گیا۔اور اب تک وہی کام کر رہی ہیں۔ناصرات الاحمدیہ نے بھی دوسرے شعبہ جات کی طرح نمایاں ترقی کی۔۱۹۵۸ء سے ناصرات الاحمدیہ کا کام نصرت گرلز سکول کے سپرد کیا گیا جنہوں نے صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ کی نگرانی میں نمایاں کام کیا۔۱۹۵۶ء میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا پہلا سالانہ اجتماع ہوا۔جس میں لجنہ ربوہ کی خواتین اور بچیوں نے نمایاں حصہ لیا۔۱۹۵۸ء میں سالانہ اجتماع کے موقع پر باہر سے آنے والی نمائندگان کی ایک وقت کی دعوت لجنہ اماءاللہ ربوہ نے کی۔متفرق امور :۔۱۹۵۳ء میں وصیت کروانے کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔اس سال چودہ بہنوں نے وصیت کی۔ممبرات لجنہ اماءاللہ کی ایک نمایاں خدمت جلسہ سالانہ کے موقع پر مہمانوں کی خدت سرانجام دینا ہے۔کئی سو کی تعداد میں مستورات اور بچیاں مہمانوں کے قیام، طعام، جلسہ گاہ، نمائش، بیعت کروانے وغیرہ کا اہم فریضہ ادا کرتی رہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت مہمانوں کو آرام پہنچانے میں صرف کرتی رہیں۔شعبه تربیت:۔یہ بڑا اہم شعبہ ہے۔ربوہ کی خواتین کو باہر کی خواتین کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔ے رجسٹر کارروائی لجنہ اماءاللہ مرکز یه ۵۸ - ۵۷ ص ۲۶