تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 335 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 335

335 محترمہ زکیہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک مبارک احمد صاحب دار الرحمت شرقی محترم محمودہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم عبدالرحیم صاحب محترمہ امۃ الرشید فرحت صاحبه اور محترمہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی ظفر الاسلام صاحب مرحوم ۱۹۵۳ء سے اب تک جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسہ گاہ کا انتظام صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ ربوہ کے ہی سپر درہا ہے جو بڑی خوش اسلوبی سے یہ فریضہ سرانجام دیتی رہی ہیں۔شعبہ تعلیم :۔ہرسال ہر حلقہ میں درس قرآن مجید کا انتظام کیا گیا۔قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔قادیان میں خواندہ اور قرآن کریم ناظرہ جانے والی خواتین قریباً سو فیصدی تھیں۔مگر ہجرت کے بعد قادیان کے بہت سے خاندان دوسرے شہروں میں آباد ہو گئے اور ربوہ میں کئی نئے خاندان دیہات کے بھی آباد ہو گئے جن کی وجہ سے خواندگی اور قرآن مجید ناظرہ اور باترجمہ جاننے کا معیار کم ہو گیا۔اس لئے اس طرف خصوصی توجہ دی گئی ۵۵-۱۹۵۴ء میں ۳۷ عورتیں قرآن مجید ناظرہ ، ۲۶ با ترجمہ اور ۰ اعور تیں لکھنا پڑھنا سیکھتی رہیں۔۳۲ مستورات نے چہل احادیث یاد کی۔۱۹۵۵۵۶ء میں ۱۶۵ عورتیں اور بچے قرآن کریم ناظرہ ، باترجمہ اور یسرنا القرآن پڑھتے رہے۔۵۸۔۱۹۵۷ء میں ۱۳ بچوں نے ناظرہ ختم کیا۔ے بچوں نے میسرنا القرآن اورا المبرات نے ترجمہ سے قرآن کریم پڑھا۔۵۵-۱۹۵۴ء میں فقہ احمدیہ کے امتحان میں گیارہ ممبرات نے شمولیت کی۔۵۸۔۱۹۵۷ء میں ضرورۃ الامام کے امتحان میں ۲۶ ممبرات نے ،کشتی نوح کے امتحان میں ۱۵۹ نمبرات نے حصہ لیا۔۱۹۵۸ء میں لجنہ مرکزیہ نے ایک تعلیمی نصاب مقرر کیا تھا۔ربوہ کی ۴۸ خواتین نے اس میں شمولیت کی۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے مقرر کردہ امتحانات میں کثرت سے خواتین اور بچیاں شامل ہوتی رہیں۔شعبہ خدمت خلق :- چونکہ ربوہ میں کثرت سے ایسی خواتین آباد ہیں جن کی مالی حالت صفر کے برابر ہے اس لئے