تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 273 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 273

273 ہے۔۔۔یہ مشکل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتی جب تک عورتوں کی صحیح طور پر تربیت نہ ہو۔جب تک انہیں یہ نہ بتایا جائے کہ تمہاری صرف یہی زندگی نہیں بلکہ اگلی زندگی بھی ہے۔۔۔ہمارا مقصد ساری دنیا میں اسلام پھیلانا ہے اور یہ بغیر قربانی کے نہیں ہو سکتا۔جب تک ہم اپنے اوقات کی قربانی نہ کریں، جب تک ہم اپنے اموال قربان نہ کریں۔ہمیں یہ امید ہی کس طرح ہوسکتی ہے کہ ہم اپنا مقصد پالیں گے۔ہمیں عورتوں کے دلوں میں یہ مضمون ڈالنا پڑے گا اور اس کے لئے نئی جد و جہد کی ضرورت ہے۔لجنہ اماءاللہ کوبھی کوشش کی ضرورت ہے۔وہ چندہ پر خوش ہو رہی ہیں جب تک وہ اپنی نسلوں کو اسلام کا فدائی نہیں بنالیتیں۔جب تک وہ اپنے اندر ایسی قوت نہیں پیدا کرلیتیں کہ ان کے ذریعہ ہندو، سکھ اور عیسائی مستورات میں ہل چل پیدا ہو جائے۔ہمیں محض ان کے چندہ دے دینے سے خوشی حاصل نہیں ہوسکتی بدلے ہوئے حالات کے مقابلہ کے لئے کروٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔تمام محکموں کو کروٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔محکمہ تعلیم کو بھی اور لجنہ اماءاللہ کوبھی۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہم جب کسی کام کے لئے باگ اٹھاتے ہیں تو کچھ دور جا کر جب سڑک مڑ بھی جاتی ہے ہم سیدھے چلے جاتے ہیں۔ہم جانتے ہی نہیں ہیں کہ ہمارے پھرنے کا موڑ آ گیا ہے اور یہ بے وقوفی کی علامت ہے عقلمندی کی علامت نہیں، اور قومیں بے وقوفی سے نہیں جیتا کرتیں عقل مندی سے جیتا کرتی ہیں۔“ پندرہ روزہ تربیتی کلاس:۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے زیر انتظام مجلس مشاورت کے بعد پندرہ روزہ ٹرینگ کلاس لجنہ کا کام سکھانے کے لئے لگائی گئی جس میں چھ مقامی ممبرات اور دس بیرونی لجنات کی ممبرات شامل ہوئیں۔اس میں محترمہ صدیقہ صاحبہ بنت چوہدری ابوالہاشم خان صاحب مرحوم، محترم امتہ الحی صاحبہ بنت مولوی عبد السلام صاحب اور محترمہ رابعہ صاحبہ بنت چوہدری محمد ابراہیم صاحب سماعیلہ ضلع گجرات على الترتيب ۲۱۶/۲۲۰ ۲۲۰/ ۲۱۵ اور ۲۱۰/۲۲۰ نمبر حاصل کر کے اول، دوم اور سوم رہیں۔نتیجہ سو فیصد رہا۔اس کلاس کا نصاب مندرجہ ذیل تھا:۔ا۔لجنہ اماءاللہ کے قیام کی اہمیت ، اس کی غرض اور طریق کار ۲۔نما ز با ترجمه سوره فاتحہ کا ترجمہ، دعائیں، آخری چندسورتیں ل الازهالذوات الخمار حصہ دوم ص ۱۲۵ تا ۱۲۹ والفضل ۸/نومبر ۱۹۵۱ صفحه ۴۰۳