تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 225 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 225

225 تیسرا باب ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۲ء تک ۱۹۵۱ء ی جامعہ نصرت کا قیام ہی تبلیغی وفود کے دورے ہی تربیتی مساعی لجنہ اماءاللہ کا کارواں اپنی زندگی کی اٹھائیس منزلیں پوری کر کے ایک نئی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔لجنہ اماء اللہ کی دینی تبلیغی ، تربیتی اور تعلیمی سرگرمیاں اس سال بھی حسب معمول جاری رہیں۔سال رواں کا سب سے اہم واقعہ جو احمدی مستورات کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جامعہ نصرت برائے خواتین کا قیام ہے جس کی وجہ سے بچیوں کے لئے مرکز میں رہ کر دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ دنیوی تعلیم حاصل کرنے کا راستہ نکل آیا۔اس ادارہ سے اب تک کثیر تعداد میں احمدی اور غیر احمدی بچیاں فیضیاب ہو چکی ہیں۔اس سال سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی زیر ہدایت بود اماءاللہ مرکز ی کو تلافی نقود کی صورت میں مختلف مقامات پر جانے اور غیر از جماعت بہنوں سے تبادلہ خیال کرنے اور احمدیت کے متعلق ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔عہدہ داران لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ۱۹۵۱ء:۔صدر نائب صدر حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ حضرت سیدہ ام داؤ دصاحبه