تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 218
218 ۳۰/۳۰ نمبر لے کر اول آئیں۔بڑے گروپ میں سے امتہ الحمید صاحبہ، امتہ الباری صاحبہ،حمیدہ صاحبہ، امیہ صاحبہ ۳۰/۳۰ نمبر لے اول آئیں۔جلسہ ناصرات الاحمد یہ ربوہ :۔ناصرات کا تقریری مقابله ۵/اکتوبر ۱۹۵۱ء کو دفتر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ میں زیر صدارت حضرت سیده ام داؤ د صاحبہ ، نائب صدر لجنہ اماء اللہ مرکز یہ منعقد ہوا۔منصفین محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ، حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ مدظلہا اور محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ تھیں۔تقریر کا عنوان ”تحریک جدید کی غرض “ تھا حلقہ نمبر کی طاہرہ بیگم اول، حلقہ نمبر کی امتہ الرشید دوم آئیں۔ہے ربوہ کے علاوہ سیالکوٹ ، سیلون اور چند ایک اور ناصرات سرگرم عمل تھیں۔خطوط کے ذریعہ بڑی لجنات کو توجہ دلائی گئی۔عہدیداران لجنات اما ء الله ۱۹۵۰ء تا ۱۹۵۸ء:- قیام پاکستان کے بعد سے ۱۹۴۹ء تک کی بجنات کے نام پہلے باب میں درج کئے جاچکے ہیں اب ۱۹۵۰ء تا ۱۹۵۸ء کی لجنات اور ان کی عہدیداران کے نام درج ذیل کئے جاتے ہیں:۔گنگا پور ضلع لائل پور صدر جنت بی بی صاحبہ، سیکرٹری صدیقن خانم صاحبہ اوکاڑہ ضلع منٹگمری صدر زاہدہ خاتون صاحبہ بنت ماسٹر حاکم علی صاحب، سیکرٹری امتہ الحمید صاحبہ اہلیہ بابوعبد الطیف صاحب چهور چک نمبر ۱۷ اضلع شیخو پورہ صدر رابعہ بی بی صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر غلام محمد صاحب نو رنگ ضلع گجرات صدر سلطانه عزیز بیگم صاحبہ اہلیہ حکیم عبد العزیز صاحب سیکرٹری نعیمہ صاحبہ اہلیہ میر حمید اللہ صاحب سکھرسندھ تاندلیانوالہ ضلع لائل پور صد راہلیہ صاحبہ شیخ عبدالرحمن صاحب امیر جماعت، سیکرٹری مطلو به خاتون صاحبه ا مصباح نومبر ۱۹۵۱ء ص ۲۸ ۲۹ ايضاً