جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 19
19 والدہ ماجدہ کی وفات: 1868ء میں آپ اپنے والد صاحب کے حکم سے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر واپس قادیان تشریف لے آئے اسی سال آپ کی والدہ ماجدہ وفات پا گئیں اس صدمہ کو آپ نے بڑے صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ایک الہام 1868ء یا 1869ء کی بات تھی ایک شخص حضور کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ بحث کرنے کی غرض سے لے گیا۔مولوی محمد حسین صاحب مسلمانوں کے اس فرقہ سے تعلق رکھتے تھے جسے اہل حدیث کہتے ہیں۔اُن دنوں اس فرقہ کی سخت مخالفت ہو رہی تھی اور جو شخص آپ کو لے گیا تھا اُس کی غرض یہ تھی کہ آپ جا کر اُن کے عقائد کا غلط ہونا ثابت کریں لیکن جب آپ نے مولوی محمد حسین صاحب سے اُن کا عقیدہ دریافت کیا اور اس عقیدہ کو اسلام کے مطابق پایا تو آپ نے بحث کرنے یا مقابلہ کرنے کی بجائے بھرے مجمع میں کہہ دیا کہ یہ عقیدہ تو درست ہے میں اس پر بحث نہیں کر سکتا۔جو لوگ آپ کو بحث کے لئے لائے تھے۔انہوں نے بہت برا منایا اور کہا کہ آپ نے ہمیں ذلیل کر دیا۔مگر آپ نے فرمایا میں نے جو کچھ کیا ہے خدا تعالیٰ کی خاطر کیا ہے۔مجھے لوگوں کی مخالفت کی یا اُن کی طرف سے تعریف کرنے کی کوئی پرواہ نہیں۔اس واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو الہاماً فرمایا: - ” خدا تیرے اس فعل پر راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے ( براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه 520)