جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 136
136 خلیفہ المسیح الثانی کے ساتھ شادی ہوئی۔1948ء میں پنجاب یو نیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا 39 سال تک بحیثیت صدر لجنہ اماءاللہ گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔آپ بہت قابل خاتون تھیں۔تحریر اور تقریر کا بہت پیارا انداز تھا۔آپ کے عہد صدارت میں لجنہ اماءاللہ کے بہت سے اہم کام ہوئے۔آپ نے لجنہ کی تاریخ بھی مرتب کروائی۔3 نومبر 1999 کور بوہ میں وفات پائی۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفة المسیح الثالث : حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم و حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی بیٹی تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی چالیس سالہ رفاقت میں کمال وفا اور اخلاص سے خدمات بجالاتی رہیں۔3 دسمبر 1981ء کو اپنے مول کے حضور حاضر ہوگئیں۔حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ حرم حضرت خلیفہ اسیح الرابع : آپ صاحبزادہ مرزا رشید احمد ابن صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کی بیٹی تھیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے ساتھ ہجرت کی اور دو مہجوری ثابت قدمی سے ساتھ نبھایا۔آپ غریبوں کی ہمدرد تھیں۔1991ء میں قادیان کے یادگار تاریخی سفر کے بعد 3 را پریل 1992ء کو انتقال کر گئیں۔اسلام آباد لفورڈ میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے پہلو میں دفن ہیں۔حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب حضرت اقدس مسیح موعود کے رفیق تھے۔بین الاقوامی شہرت کے مالک تھے۔1962ء میں یونائیٹڈ نیشنز (UN) کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس ) عالمی عدالت انصاف) کے حج کی حیثیت سے کام کیا۔