تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 395 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 395

جلد اوّل 364 تاریخ احمدیت بھارت 14 - روحانی خزائن جلد 17 / اربعین نمبر 1 صفحہ 344 15- شرائط بیعت مندرجہ الوصیت صفحہ آخر مطبوعہ 1936ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 255 مطبوعہ 2007ء 17 - بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 253 تا 255 مطبوعہ 2007ء 18 - بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 256 مطبوعہ 2007ء 19۔اس تعلق سے مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ یہ باغ ایک سکھ نے الاٹ کروالیا تھا لیکن ہماری طرف سے اس کو قبضہ نہیں لینے دیا گیا۔پھر سردار امولک سنگھ صاحب مجسٹریٹ درجه اول ( متعین قادیان) نے اس بارہ میں مقدمہ کی سماعت کی اور بطور متبرک بہشتی مقبرہ کا حصہ تسلیم ہو کر ہمیں مل گیا لیکن گزشتہ سال (1963ء۔ناقل ) جو احمد یہ محلہ کے نکاس مکانات کی قریباً سواد ولاکھ روپیہ قیمت طلب کی گئی اور عدم ادائیگی کی صورت میں مرکزی وزارت آبادی نے نیلام کرنے کی دھمکی دی تھی یہ رقم صدر انجمن ادا کر رہی ہے جس میں اس سکھ کی نیش زنی سے بڑے باغ کی قیمت چوالیس ہزار رو پی بھی شامل کر دی گئی ہے۔مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 257 مطبوعہ 2007ء) 20 اس تعلق سے مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم میں لکھا ہے اس وقت تو اراضی کا انتظام نہ ہو سکا چند سال بعد بعض درویشوں نے اردگرد کے غیر مسلم مہاجرین سے ٹھیکہ پر اراضی لے کر کاشت کرنا شروع کی اور اب تک کر پاتے ہیں۔صدر انجمن احمد یہ نیز اس کے صیغہ پراویڈنٹ فنڈ اور بعض درویشوں نے بہشتی مقبرہ کے قریب اراضی خریدیں مگر اب دور دور بھی خرید لی گئی ہیں ) ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 257 مطبوعہ 2007ء) 21۔یہاں پہلے ملک محمد بشیر صاحب کا ٹال ہوا کرتا تھا جہاں لکڑی ( ایندھن ) فروخت کی جاتی تھی۔22۔اس سلسلہ میں طویل خط و کتابت ہوئی لیکن بعد کو کسٹوڈین کے قوانین جاری ہونے کے باعث کرایہ نہیں ملا اور یہ عمارتیں نکاس قرار پائیں۔مکتوبات اصحاب احمد جلد دوم بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 258 حاشیہ مطبوعہ 2007ء)