تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page xix
جلد اوّل میں باتہ لمصل XIV تاریخ احمدیت بھارت روز اول سے بلند ہونا شروع ہو ئیں اوراتنی بلند ہوگئیں کہ ایک دوسرے کے تفصیلی حالات معلوم کرنا بھی دشوار ہو گیا۔حضرت امصلح الموعود 31 / اگست 1947ء کو قادیان سے ہجرت فرما کر لا ہور تشریف لے لاہور گئے۔قادیان اور مشرقی پنجاب کی احمدی آبادی کی اکثریت پاکستان کی طرف ہجرت کر گئی۔مگر قادیان بدستور صدر انجمن احمد یہ قائم و دائم رہی اور اپنے فرائض ادا کرتی رہی درویشان کرام قادیان میں مقیم رہے۔حضرت الصلح الموعود کی ہدایات کی روشنی میں صدر انجمن احمد یہ قادیان اور بھارت کے صوبہ جات میں موجود افراد جماعت کو از سر نو منظم کرنے لگی۔جس کی ایک علیحدہ تاریخ ہے۔سرحد کے اس پار شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ کے لئے اس کا جمع کرنا دشوار ہوتا چلا گیا۔تاریخ احمدیت کو یکجا کرنا بھی مشکل ہوتا چلا گیا۔چنانچہ حالات کا تقاضا تھا کہ ” تاریخ احمدیت بھارت کے نام سے جماعتہائے احمد یہ بھارت کی تاریخ مدون کی جائے اور اس کی ابتداء ملک کی آزادی اور ہجرت سے کی جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی شفقت سے شعبہ تاریخ احمدیت قادیان کا قیام سال 2010 میں عمل میں آیا۔اس شعبہ کے قیام کا پس منظر یہ ہیکہ مورخہ یکم مئی 2010 کو محترم مولانا محمد انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ قادیان نے مکرم انچارج صاحب انڈیاڈیسک کی خدمت میں ایک مکتوب ارسال کیا۔اس مکتوب میں یہ ذکر کیا کہ :۔” اب اس امر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ قادیان میں ایک شعبہ تاریخ احمدیت ہندوستان قائم کیا جانا مناسب ہوگا۔جو تقسیم ملک کے بعد سے اب تک کے حالات کو جمع کرنے کا کام کرے تا کہ قادیان کے ابتدائی حالات۔درویشان قادیان کی قربانیاں اور خلافت ثانیہ کے دور سے اب تک ہندوستان کی جماعتوں کے درجہ بدرجہ استحکام اور ترقیات اور صد سالہ جشن تشکر 1989 اور خلافت جوبلی 2008 کے دوران جماعتہائے ہندوستان کی مساعی وغیرہ کو تاریخی نکتہ نظر سے جمع کرنے کا کام شروع ہو۔“ اس مکتوب میں محترم ناظر صاحب اعلیٰ قادیان نے ایک کمیٹی کی بھی تجویز دی اور ایک فل ٹائم مربی اس شعبہ کو دئے جانے کی بھی تجویز پیش کی۔سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت اس کی منظوری عنایت فرمائی۔