حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 98
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات ان لوگوں کی شناخت بہت مشکل بھی نہ تھی۔ایک تنظیم پاکستان کی بڑی افواج سے تعلق رکھتی تھی۔اس تنظیم کے کارکنوں نے فقیروں کا بھیس بدلا ہوا تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ عالم میں تنہا یہی ایسے فقیر رہ گئے تھے جنہوں نے اپنے فقیرانہ لباس کے ساتھ ملٹری کے مخصوص قسم کے بھاری بھر کم بوٹ بھی پہن رکھے تھے۔حضرت خلیفہ رابع " اس بات پر مصر تھے بلکہ یہ ان کا تاکیدی حکم تھا کہ ان کی روانگی کے متعلق کسی قسم کی غلط بیانی یا ابہام سے ہر گز کام نہ لیا جائے اور وہ خود نہ تو کوئی بھیس بدلیں گے اور نہ ہی کسی اور پاسپورٹ پر سفر کریں گے البتہ اگر جنرل ضیاء کی خفیہ تنظیمیں کسی خوش فہمی کا شکار ہو جائیں تو وہ جانیں اور ان کا کام۔(29 را پریل 1984ء- ناقل ) نماز فجر کے بعد علی الصبح (حضرت ) خلیفہ رابع رحمہ اللہ کی کارربوہ سے روانہ ہوتی ہوئی نظر آئی۔کار کی عقبی نشست پر ایک صاحب تشریف فرما تھے۔وہ (حضرت ) خلیفہ رابع کے معمول کے لباس میں تھے۔یعنی اچکن زیب تن تھی۔انہوں نے پنجابی طرز کی طرے دار سفید پگڑی جو سنہری کلا پر بندھی ہوئی تھی ، بہن رکھی تھی۔حضرت خلیفہ رابع کا معمول کا حفاظتی دستہ ان کے ہمراہ تھا۔ایک کار ان کی کار کے آگے اور دو کاریں پیچھے پیچھے چل رہی تھیں۔ان کاروں میں ان کا حفاظتی دستہ سوار تھا، جس کے ایک ایک فرد کو خفیہ تنظیمیں خوب جانتی پہچانتی تھیں اور ان میں سے ہر شخص اپنی اپنی نشست پر بیٹھا ہوا صاف دکھائی دے رہا تھا۔راہ چلتے اکا دکا احمدیوں نے جب اس قافلے کو روانہ ہوتے ہوئے دیکھا تو یہی سوچا کہ (حضرت) خلیفہ رائج دو سو میل دور اسلام آباد تشریف لے جارہے ہیں۔ربوہ کی نگرانی پر متعین پانچ سرکاری خفیہ تنظیموں میں سے چار خفیہ تنظیموں کا اندازہ بھی کم و بیش یہی 98