حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 37
37 نئے نشانوں کی ضرورت اب نئے معلموں کی اس وجہ سے بھی ضرورت پڑتی ہے کہ بعض حصے تعلیم قرآن شریف کے از قبیل حال ہیں نہ از قبیل قال۔اور آنحضرت ﷺ نے جو پہلے معلم اور اصل وارث اس تخت کے ہیں حالی طور پر ان دقائق کو اپنے صحابہ کو سمجھایا ہے مثلاً خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ میں عالم الغیب ہوں اور میں مجیب الدعوات ہوں اور میں قادر ہوں اور میں دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور طالبوں کو حقیقی روشنی تک پہنچاتا ہوں اور میں اپنے صادق بندوں کو الہام دیتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں اپنے بندوں میں سے اپنی روح ڈالتا ہوں یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جب تک معلم خود ان کا نمونہ بن کر نہ دکھلا دے تب تک یہ کسی طرح سمجھ ہی نہیں آسکتیں۔(شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ 348-349) ہماں ز نوع بشر کامل از خدا باشد که با نشان نمایاں خدا نما باشد انسانوں میں وہی خدا کی طرف سے کامل ہوتا ہے جو روشن نشانوں کے ساتھ خدا نما ہوتا ہے بتا بد از رخ او نور عشق و صدق و وفا ز خلق او کرم و غربت و حیا باشد اس کے چہرے سے عشق اور صدق وصفا کا نور چمکتا ہے کرم ، انکسار اور حیا اس کے اخلاق ہوتے ہیں صفات او ہمہ ظلِ صفات حق با شند استقامت او ہمچو انبیا باشد اس کی ساری صفات خدا کی صفات کا پر تو ہوتی ہیں اور اس کا استقلال بھی انبیا کے استقلال کی مانند ہوتا ہے روان بچشمه او بر سر مدی باشد عیاں در آئینه اش روئے کبریا باشد اس کے سر چشمہ سے ابدی فیضان کا سمندر جاری ہوتا ہے اور اس کے چہرہ میں خدائے بزرگ کا چہرہ نظر آتا ہے ازین بود که چو سال صدی تمام شود بر آید آنکه بدین نائب خدا باشد یہی وجہ ہے کہ جب صدی کے سال ختم ہوتے ہیں تو ایسا مردظاہر ہوتا ہے جو دین کیلئے خدا کا قائم مقام ہوتا ہے رسید مژده زعیم کہ من ہماں مردم که او مجدد این دین و رہنما باشد مجھے غیب سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ میں وہی انسان ہوں جو اس دین کا مجدد اور راہنما ندائے کی نمایاں بنام ما باشد لوائے ما پند ءِ ہر سعید خواهد بود مقام ہے ہوگا چمن قدس و اصطفا باشد ہمارا جھنڈا ہر خوش قسمت انسان کی پسند گاہ ہو گا اور کھلی کھلی فتح کا شہرہ ہمارے نام پر مرا بگلشن رضوان حق شدست گزر اللہ تعالیٰ کی رضا کے باغ میں میرا گذر ہوا ہے میرا مقام برگزیدگی اور تقدس کا چمن ہے کمال پاکی و صدق و صفا که گم شده بود دوباره از سخن و وعظ من بیا باشد پاکیزگی اور صدق وصفا کا کمال جو معدوم ہو گیا تھا وہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے مرنج از سخنم ایکه سخت بے خبری که آنکه گفته ام از وحی کبریا باشد اے وہ شخص جو بالکل بے خبر ہے میری بات سے ناراض نا ہو کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے گم شده از خود بنور حق پیوست هر آنچه از دهنش بشنوی بجا باشد جو شخص اپنی بے خودی کو چھوڑ کر خدا کے نور میں جا ملا اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہوگی تریاق القلوب - ر خ جلد 15 صفحہ 129 تا 134 )