حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 563
563 باب پنجم فہم قرآن اور ارکان ایمان ایمان کی تعریف أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔(العنكبوت:3) جو شخص ایمان لاتا ہے اس کو عرفان دیا جاتا ہے۔ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لیتا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک و شبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔(ایام الصلح - ر-خ- جلد 14 صفحہ 261)