حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 113 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 113

113 قرآن کریم میں آئندہ کی پیشگوئیوں سے مراد حضرت اقدس ہیں دوسرا امر تنقیح طلب یہ تھا کہ قرآن کریم میں مسیح موعود کی نسبت کچھ ذکر ہے یا نہیں اس کا فیصلہ دلائل قطعیہ نے اس طرح پر دیا ہے کہ ضرور یہ ذکر قرآن کریم میں موجود ہے اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی ان آئیندہ پیشگوئیوں پر غور کرے گا جو اس امت کے آخری زمانہ کی نسبت اس مقدس کتاب میں ہیں۔تو اگر وہ فہیم اور زندہ دل اپنے سینہ میں رکھتا ہے تو اس کو اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں ہوگا کہ قرآن کریم میں یقینی اور قطعی طور پر ایک ایسے مصلح کی خبر موجود ہے جس کا دوسرے لفظوں میں مسیح موعود ہی نام ہونا چاہئے نہ اور کچھ اس خبر کو مجھنے کیلئے پہلے مندرجہ ذیل آیات کو یکجائی نظر سے دیکھ لینا چاہیئے۔مثلاً یہ آیات و الَّتِی اَحَصَنَتْ فَرُ جَهَا فَنَفَخُنَا فِيهَا مِنْ رُّؤْ حِنَا وَجَعَلْنَهَا وَابْنَهَا آيَةٌ لِلْعَلَمِينَ إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَةً وَاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ۔وَتَقَطَّعُوا أَمْرَ هُمْ بَيْنَهُمْ كُلٌّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ (الانبياء: 94192) حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَاجُوجُ وَمَا جُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ۔وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا يَوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَذَا بَلُ كُنَّا ظَالِمِينَ۔(الانبیاء: 97-98) یعنی خدا تعالیٰ نے اس عورت کو ہدایت دی جس نے اپنی شرمگاہ کو نامحرم سے بچایا۔پس خدا نے اس میں اپنی روح کو پھونک دیا اور اس کو اور اس کے بیٹے کو دنیا کے لئے ایک نشان ٹھہرایا اور خدا نے کہا کہ یہ امت تمہاری ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پر ور دگار ہوں سو تم میری ہی بندگی کروں۔مگر وہ فرقہ فرقہ ہو گئے اور اپنی بات کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور باہم اختلاف ڈال دیا۔اور آخر ہر ایک ہماری ہی طرف رجوع کرے گا۔اور تمام فرقے ایسی ہی حالت پر رہیں گے یہاں تک کہ یا جوج اور ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ ہر ایک بلندی سے دوڑتے ہوں گے اور جب تم دیکھو کہ یا جوج ماجوج زمین پر غالب ہو گئے تو سمجھو کہ وعدہ سچاند ہب حق کے پھیلنے کا نزدیک آ گیا اور وہ وعدہ یہ ہے۔هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُو لَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ ـ (الصف: 10) اور پھر فرمایا کہ اس وعدے کے ظہور کے وقت کفار کی آنکھیں چڑھی ہوں گی اور کہیں گے اے وائے ہم کو۔ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے یعنی ظہور حق بڑے زور سے ہوگا اور کفار سمجھ لیں گے کہ ہم خطا پر ہیں۔ان تمام آیات کا ماحصل یہ ہے کہ آخری زمانہ میں دنیا میں بہت سے مذہب پھیل جائیں گے اور بہت سے فرقے ہو جائیں گے پھر دو تو میں خروج کریں گی جن کا عیسائی مذہب ہوگا اور ہر ایک طور کی بلندی وہ حاصل کریں گے اور جب تم دیکھو کہ عیسائی مذہب اور عیسائی حکومتیں دنیا میں پھیل گئیں تو جانو کہ وعدہ کا وقت نزدیک ہے۔پھر دوسرے مقام میں فرمایا ہے۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي