حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 90 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 90

90 حضرت اقدین اسلام کے نور کے متمم ہیں يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ (الصف:9) مسیح موعود اسلام کے قمر کا متم نور ہے اس لئے اس کی تجدید چاند کی چودھویں رات سے مشابہت رکھتی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه (القف: 10) کیونکہ اظہار تام اور ا تمام نور ایک ہی چیز ہے اور یہ قول کہ لِيُظهِرَهُ عَلَى الْأَدْيَانِ كُلَّ الْإِظْهَارِ مساوى اس قول سے ہے کہ لِيُتِمَّ نُورَهُ كُلَّ الْإِثْمَامِ - تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 124) مسیح موعود کو چودھویں صدی کے سر پر پیدا کرنا اس طرف اشارہ تھا کہ اس کے وقت میں اسلامی معارف اور برکات کمال تک پہنچ جائیں گی جیسا کہ آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (القف: 10) میں اسی کمال تام کی طرف اشارہ ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 209 حاشیہ) تھا برس چالیس کا میں اس مسافر خانہ میں جبکہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجب تر یہ کہ نصرت کے ہوئے جاری بحار ہر قدم پر میرے مولیٰ نے دیے مجھ کو نشاں ہر عدد پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار نعمتیں وہ دیں مرے مولیٰ نے اپنے فضل سے جن سے میں معنی أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ آشکار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 135) منصب مہدی اور مسیح علیہ السلام افسوس ہے کہ جیسے حدیث میں آیا ہے کہ ایک درمیانی زمانہ آوے گا جو شیح اعوج ہے۔یعنی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک میرا زمانہ برکت والا ہے۔ایک آنے والے مسیح و مہدی کا مسیح و مہدی کوئی دوا لگ اشخاص نہیں ان سے مراد ایک ہی ہے۔مہدی ہدایت یافتہ سے مراد ہے۔کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ مسیح مہدی نہیں۔مہدی مسیح ہو یا نہ ہو لیکن مسیح کے مہدی ہونے سے انکار کرنا مسلمان کا کام نہیں۔اصل میں اللہ تعالیٰ نے یہ دو الفاظ سب وشتم کے مقابل بطور ذب کے رکھے ہیں کہ وہ کافر ، ضال مضل نہیں۔بلکہ مہدی ہے۔چونکہ اس کے علم میں تھا کہ آنیوالے مسیح و مہدی کو دجال و گمراہ کہا جائے گا، اس لئے اسے مسیح مہدی کہا گیا۔دجال کا تعلق أخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: 177 ) سے تھا اور مسیح کا رفع آسانی ہونا تھا۔سوجو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا تھا اس کی تکمیل روی زمانوں میں ہوئی تھی۔ایک آپ ﷺ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ یعنی ایک زمانے میں تو قرآن اور بچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر مسیح اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا۔جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا۔جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنیوالی جماعت کا جسکی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوا بهم (الجمعه 4) آیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا۔بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا تعالیٰ حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔آثار میں ہے۔کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی۔کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا۔جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں گی۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 25)