حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 76 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 76

76 حکم اور عدل کا نزول فرمان حضرت رسول اکرم علیہ کے مطابق ہے علاوہ اس کے مسلم کی حدیث میں جو ابو ہریرہ سے مروی ہے عیسی کے آنے کی یہ نشانیاں لکھی ہیں لینز لن ابن مريم حكما عد لا فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها يعنی عیسی حکم اور عدل ہونے کی حالت میں اترے گا اس طرح پر کہ مسلمانوں کے اختلافات پر حق کے ساتھ حکم کرے گا اور عدل کو زمین پر قائم کر دیگا صلیب کو توڑیگا خنزیروں کو قتل کرے گا اور جزیہ کو اُٹھا دے گا اور اس کے آنے کا ایک یہ نشان ہوگا کہ جوان اونٹنیاں جو بار برداری اور سواری کا بخوبی کام دیتی ہیں چھوڑ دی جائیں گی پھر اُن پر سواری نہیں کی جائے گی۔(ازالہ اوہام حصہ دوم۔ر خ جلد 3 صفحہ 555-556) غرض جب طرح طرح کی عملی بد اعتقادی پھیل جائے گی۔تب بطور حکم کے مسیح اُن میں آوے گا۔اسی طرح ہمارے ہادی کامل ﷺ نے ہم کو اطلاع دی کہ جب تم میں بھی یہودیوں کی طرح کثرت سے فرقے ہو جاویں گے اور اُن کی طرح مختلف قسم کی بد اعتقادیاں اور بدعملیاں شروع ہونگی۔علماء یہود کی طرح بعض بعض کے مکر ہوں گے۔اُس وقت اس اُمت مرحومہ کا مسیح بھی بطور حکم کے آئے گا ، جو قرآن شریف سے ہر امر کا فیصلہ کرے گا۔وہ مسیح کی طرح قوم کے ہاتھ سے ستایا جائے گا اور کا فرقرار دیا جائے گا۔اگر ان لوگوں نے کم سمجھی سے اس شخص کو دجال اور کافر کہا ، تو ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیوں کہ حدیث میں آچکا تھا کہ آنے والا مسیح کا فر اور دجال ٹھہرایا جائیگا۔لیکن جو عقیدہ آپ کو سکھلایا جاتا ہے وہ بالکل صاف اور اُجلا ہے اور محتاج دلائل بھی نہیں برہان قاطع اپنے ساتھ رکھتا ہے۔الہامات حضرت اقدس دنی فتدلى فکان قاب قوسین او ادنی يحيى الدين ويقيم الشريعته ( ملفوظات جلد اول صفحہ 29) (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 78 ) پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ شخص مجھ سے نزدیک ہوا۔اور میرا قرب کامل اس نے پایا۔اور پھر بعد اس کے ہمدردی خلائق کے لئے ان کی طرف متوجہ ہوا اور مجھ میں اور مخلوق میں ایک واسطہ ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں میں وتر ہو۔اور اس لئے وہ اس درمیانی مقام پر ہے۔وہ دین کو از سرے نو زندہ کرے گا۔اور شریعت کو قائم کر دیگا۔یعنی بعض غلطیاں جو مسلمانوں میں رائج ہو گئی ہیں اور ناحق آنحضرت ﷺ کی طرف ان غلطیوں کو منسوب کیا جاتا ہے ان سب غلطیوں کو ایک حکم کے منصب پر ہو کر دور کر دے گا۔اور شریعت کو جیسا کہ ابتداء میں سیدھی تھی سیدھی کر کے دکھلا دے گا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 81)