تحقیقِ عارفانہ — Page 79
29 ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں اور کوئی کمال نبوت ایسا باقی نہیں جو آنحضرت ﷺ کو نہ ملا ہو۔پھر اس جگہ قرآن مجید کو خاتم الشرائع بھی خاتم کے حقیقی معنوں شریعت محمدیہ کے جامع کمالات ہونے کی وجہ سے ہی قرار دیا گیا ہے۔پس جس طرح خاتم النبین کے اثر و فیض سے امت محمدیہ میں فلقی نبی آسکتا ہے۔اسی طرح قرآن مجید کے خاتم الشرائع ہونے کی وجہ سے اس ظلی نبی پر قرآن مجید کے کچھ اوامر و نواہی الهام بطور تجدید دین و بیان شریعت قرآن مجید کی خلقیت میں نازل ہو سکتے ہیں۔اور امور غیبیہ پر مشتمل وحی بھی قرآن مجید کی پیروی کی برکت سے نازل ہو سکتی ہے۔نان جس طرح خاتم النبیین کے بعد کوئی مستقل اور شریعت جدیدہ لانے والا نبی نہیں آسکتا اسی طرح خاتم الشرائع کے بعد کوئی جدید شریعت بھی نازل نہیں ہو سکتی جو قرآن مجید کے اوامر و نواہی میں ترمیم و تنسیخ کرنے والی ہو۔پس جس طرح خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کو جو اپنے اندر ایجاد کا مفہوم رکھتے ہیں آخری تشریعی نبی ہونا لازم ہے اسی طرح خاتم الشرائع کے لئے آخری شریعت جدید ہونا لازم ہے۔متد بر۔ایک بروز محمدی کی تشریح جناب برق صاحب نے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ “ سے ایک اقتباس پیش کیا ہے جس میں ایک فقرہ یہ آیا ہے۔ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا۔سووہ ظاہر ہو گیا۔“ اس پر برقی صاحب لکھتے ہیں۔اس اقتباس میں ایک بروز محمدی کا جملہ زیرِ نظر رکھیے اور ان تمام اقتباسات کا ملخص عبارت ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۰)