تحقیقِ عارفانہ — Page 645
۶۴۵ یعنی عرب شعر میں توازن کی حفاظت اور توازن کو ترجیح دیتے ہوئے لفظ میں کمی بیشی کر دیتے ہیں۔الشعر و الشعراء لابن قتیبہ میں لکھا ہے :- (۱) قَدْيَضْطَرُّ الشَّاعِرُ فَيَقْصُرُ الْمَمْدُودَ وَلَيْسَ لَهُ اَنْ يَمَتَدَّ الْمَقْصُورَ - (٢) وَأَمَّا تَركُ الْهُمُ مِنَ الْمَهُمُوزِ فَكَثِيرُ، وَاسِعُ، لَا عَيْبَ فِيهِ عَلَى الشَّاعِرِ (1) کبھی شاعر مضطر ہوتا ہے تو وہ محدود کو مقصور کردیتا ہے ( یہ تو جائز ہے) مگر اسے اس بات کی اجازت نہیں کہ مقصور کو محدود کرے۔(۲) ہمزہ کو ترک کر دینے میں تو کثرت اور وسعت پائی جاتی ہے اس کا ترک کر نا شاعر کے لئے معیوب نہیں۔پس سیات" کو حفاظت وزن کے لئے سیات باندھنا جائز ہے۔برق صاحب محض اپنے محدود علم کے پیمانے سے امام الزمان کے کلام کو ناپنا چاہتے ہیں۔حالانکہ مشہور مقولہ ہے۔یجوز في الشعر ما لا يجوز في النثر۔یعنی کئی باتیں شعر میں تو جائز ہیں مگر نثر میں جائز نہیں۔نمبر ۲ : - و للدِّين أَطْلَالُ أَرَاهَا كَلْاهَفٍ اعتراض ودمعى بذكر قُصُورهِ يَتحدر خطبه العامیه صفحه ۲۰۳ طبع اول) برق صاحب لکھتے ہیں کہ دوسرا مصرع خارج از وزن ہے۔دوسرے مصرع کا وزن بالکل صحیح ہے۔کیونکہ اس کا تیسرا اور آخری رکن ر حاف قبض مقبوض ہے۔یعنی فعول مفاعلن کے وزن پر ہے۔زحاف قبض شعر میں