تحقیقِ عارفانہ — Page 591
۵۹۱ صفحہ ۴۳۱ کے حوالہ سے ”بھیڑی اور لونبڑی“ کے الفاظ درج کئے ہیں۔دراصل یہ لفظ ”بھیڑی “اور ”لومبرڑی“ ہیں۔غلطی رسم الحظ کی ہے۔۲ - پھر ”جو کا لفظ با معنی کہ “ استعمال ہوا۔اس جگہ ”جو “ موصولہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے۔اور یہ پر انا اسلوب بیان ہے۔: ایک خاص طور پر ان کے ساتھ ہوتا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۲۷) برق صاحب ایک خاص طور پر “ کے الفاظ پر معترض ہیں۔مگر مراد اس فقرہ سے یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے خدا تعالے ایک رنگ کا خصوصی تعلق رکھتا ہے۔۴:- برق صاحب ایک عبارت پیش کرتے ہیں :- "جو شخص مامور ہو کر آسمان سے آتا ہے۔۔۔۔در حقیقت وہ ایک روحانی آفتاب تا ہے۔جس کی کم و بیش دور دور روشنی پہنچتی ہے۔" (ازالہ اوہام صفحہ ۴۴۹) برق صاحب اس پر معترض ہیں کہ۔خط کشیدہ حصص بے معنی ہیں۔الجواب برق صاحب نے حسب عادت پوری عبارت نہیں لکھی۔پوری عبارت سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ حصص بے معنی نہیں۔بلکہ برق صاحب نے درمیان سے کچھ عبارت حذف کر کے خود اسے بے معنی بنایا ہے۔اصل عبارت یوں ہے :- "جو شخص مامور ہو کر آسمان سے آتا ہے۔اس کے وجود سے علی حسب مراتب سب کو بلکہ تمام دنیا کو فائدہ ہوتا ہے۔اور در حقیقت وہ ایک روحانی آفتاب نکلتا ہے۔جس کی کم و بیش دور دور تک روشنی پہنچتی ہے۔“ ہر شخص اس عبارت کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ مامورین من اللہ کو اس عبارت میں آفتاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔جس سے دور دور تک روشنی پہنچتی ہے۔کہیں کم اور کہیں زیادہ۔اس تشبیہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مامور من اللہ روحانیت میں آفتاب ہوتا ہے۔جس سے حسب