تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 491 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 491

۴۹۱ ہیں مگر جب الہام الہی نے اس پیشگوئی کے ظہور کو زلزلہ نمونہ قیامت سے وابستہ کر دیا ہے اور تاخیر کے زمانہ کی کوئی تعیین نہیں کی اور صرف اتنا بتایا ہے کہ یہ زلزلہ آپ کی زندگی میں نہیں آئے گا۔تو اس الہامی وضاحت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں اس کے عدم ظہور کو آپ کے خلاف بصورت اعتراض پیش نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ سب پیشگوئیوں کا مامور کی زندگی میں ہی پورا ہونا ضروری نہیں ہو تا۔اور اس زلزلہ کے متعلق تو حضرت مسیح موعود کی دُعا تھی کہ مجھے نہ دکھایا جائے اور خدا تعالیٰ نے اس میں تاخیر ڈال دی تھی۔۹ - کنواری اور بیدہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر یہ الہام نازل ہوا تھا "بكر و آب “ آپ نے اجتهادا اس کا یہ مفہوم قرار دیا : - ”خدا کا ارادہ ہے کہ دو عور تیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر (کنواری) ہو گی دوسری بیوہ۔چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا۔اور اس وقت بفضلہ چار پسر اس بیوی سے ہیں۔اور بیوہ کے الہام کا انتظار ہے۔“ (تریاق القلوب صفحہ ۳۴) مر ۱۶؍ فروری ۱۹۰۱ء کو آپ پر الہام نازل ہوا "تكفيكَ هذه الامراة - کہ تیرے لئے یہی عورت (جو تیرے نکاح میں ہے ) کافی ہے۔اس الہام نے بتا دیا کہ اب اور کوئی عورت آپ کے نکاح میں نہیں آئے گی۔(ملاحظہ ہو تذکرہ صفحہ ۸۳) اس الہام کی روشنی میں الہام "بكر" وتی " کی خدا تعالی کے نزدیک وہی تشریح مراد ہو سکتی ہے جسے باہو منظور الہی کی کتاب مجموعہ الہامات صفحہ ۳۸ سے برق صاحب نے ذیل کے الفاظ میں درج کیا ہے کہ : دو یہ الہام اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین (نصرت جهان بینم صاحبہ ) کی ذات میں پورا ہوا جو بکر آئیں اور شیب (بیوہ رہ گئیں۔66