تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 489 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 489

۴۸۹ یہ تحریر فرماتے ہیں۔اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے۔اور نیز وحی الہی کی سچائی کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی۔مگر یہ ضرور ہو گا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے۔اور ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ سے رکی رہے۔جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔یادر ہے یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئند و بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت کی نسبت تسلی دیدی کہ اس میں موجب وعده أخَّرَهُ اللهُ إلى وقت مُسَمًّى - ابھی تاخیر ہے۔اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ دامنگیر ہوتا۔کہ شاید وہ وقت آگیا۔اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا۔اب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہو کر معین ہو گئی۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۱،۱۰۰ حاشیہ) ۲۸ / اپریل ۱۹۰۱ء کے العام أخرَهُ اللهُ إلى وقت مُسَمًّی نے آپ کو زلزلہ کی تاخیر کی خبر دی تھی اس کے متعلق بدر ۵ / اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ اور الحکم 66 ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ میں فرماتے ہیں۔چھوٹے زلزلے تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن سخت زلزلہ جو آنے والا ہے۔اس کے وقت میں تا خیر ڈالی گئی ہے۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ تاخیر کتنی ہے۔“ ۱۹ر فروری ۱۹۰۶ء کو بشیر الدولہ کے متعلق جو الہام ہوا اس سے متعلق فرماتے ہیں۔دیکھا کہ منظور محمد کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔اور دریافت کرتے ہیں کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے۔تب خواب سے حالت الہام کی طرف چلی گئی اور یہ معلوم ہوا "بشیر الدولہ۔فرمایا۔کئی آدمیوں کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔معلوم نہیں کہ منظور محمد کے لفظ سے کس کی طرف اشارہ ہے۔ممکن ہے بشیر الدولہ کے لفظ سے یہ مراد ہو کہ ایسا لڑکا میاں منظور محمد کے پیدا ہو گا۔جس کا پیدا ہونا موجب خوشحالی اور