تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 350 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 350

۳۵۰ سلاسل ہیں اور باغی اپنی سنگینوں اور بندوقوں سے خاندان شاہی کے ایک ایک رکن کو ہلاک کرتے ہیں۔جب زار کے تمام بچوں اور بیوی کو باغی تڑپا تڑپا کر مار چکتے ہیں تو زار کو نہایت بے رحمانہ طریق پر قتل کر دیتے ہیں۔۱۴ - ۱۸۷۷ء کی بات ہے کہ مرزا صاحب نے عالم رویا میں دیکھا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لیے مجھے بھیجا ہے اور میں نے اسے مچھلی کی طرح قتل کر واپس کر دیا ہے۔اس رویاء کے بعد مرزا صاحب نے رالیا رام وکیل کے اخبار میں چھپنے کے لیے ایک مضمون بھیجا اور اس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھدیا ( مرزا صاحب کو یہ علم نہ تھا کہ پیکٹ میں خط رکھنا قانون ڈاکخانہ کی رو سے جرم ہے ) رلیا رام وکیل جانتا تھا کہ مرزا صاحب کا یہ فعل قانونی طور پر جرم ہے اور اس کی سزا پانچ صد رو پہیہ جرمانہ اور چھ ماہ قید ہے۔رلیا رام نے اس خط کی مخبری کر دی۔جس پر افسران ڈاک نے مرزا صاحب پر مقدمہ چلا دیا۔عدالت گورداسپور سے طلبی ہوئی۔مرزا صاحب نے وکیلوں سے مشورہ کیا تو ان سب نے یہی کہا کہ سوائے جھوٹ بولنے کے کوئی چارہ نہیں ہے لیکن مرزا صاحب نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا۔بلکہ عدالت میں اقبال کیا کہ یہ میراخط ہے اور پیکٹ بھی میرا ہے۔میں نے اس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر روانہ کیا تھا مگر میں نے بدنیتی سے یہ کام نہیں کیا۔افسر ڈاکخانہ نے جو مدعی تھا مر زا صاحب کو پھنسانے کی بہتیری کوشش کی لیکن اس کے دلائل کا عدالت پر کچھ اثر نہ ہوا۔چنانچہ عدالت نے مرزا صاحب کو بری کر دیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عرصہ پہلے رلیا رام کا سانپ کا بھیجنا اور مرزا صاحب کا تھی ہوئی مچھلی لوٹانا اور پھر اس مقدمہ کا ر لیا رام کے ہاتھ سے شروع ہو نالور مرزا صاحب کا باعزت طریق پر بری ہونا اپنے اندر کئی سبق رکھتا ہے۔ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص انکل بچو طریق پر ایسی پیشگوئی کر دے جو حرف بحرف پوری ہو کر رہے۔